
نہاتے یا تیراکی کے دوران کان میں پانی چلے جانا ایک عام مسئلہ ہے، جو اکثر بےچینی اور بعض اوقات درد کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
زیادہ تر افراد گھبراہٹ میں آ کر کان میں انگلی، پِن، ماچس، ٹشو یا کاٹن بڈ ڈال کر پانی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ماہرین صحت کے مطابق یہ عمل نہایت خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسی حرکتیں کان کے پردے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور انفیکشن کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کان میں پانی چلا جائے تو پریشان ہونے کے بجائے چند محفوظ اور آسان طریقے اختیار کیے جائیں، جن کی مدد سے پانی قدرتی طور پر خارج ہو سکتا ہے۔
پہلا طریقہ:
جس کان میں پانی گیا ہو، سر کو اسی طرف جھکائیں اور کان کو ہلکے سے نیچے کی جانب کھینچیں۔ اس کے بعد آہستگی سے ایک دو چھوٹی جمپ لگائیں۔ اس عمل سے پانی خود بخود باہر آ سکتا ہے۔
دوسرا طریقہ:
اپنی ہتھیلی کان پر رکھ کر چند مرتبہ دبائیں اور چھوڑ دیں۔ اس عمل سے ہلکی سکشن پیدا ہوتی ہے، جو کان کے اندر موجود پانی کو نکالنے میں مدد دیتی ہے۔
تیسرا طریقہ:
یہ طریقہ صرف بڑوں کے لیے ہے اور احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ ہیئر ڈرائر کو کم درجۂ حرارت پر رکھیں اور کان سے تقریباً دس انچ کے فاصلے پر پانچ سیکنڈ تک گرم ہوا دیں، پھر وقفہ دیں۔ اس عمل کو دو سے تین مرتبہ دہرایا جا سکتا ہے، جس سے کان کے اندر موجود نمی خشک ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر پانی نہ نکلے یا درد میں اضافہ ہونے لگے تو فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔
اگر کان میں پانی جانے کے بعد بھنبھناہٹ، درد، سنسناہٹ یا سماعت میں کمی محسوس ہو تو یہ انفیکشن کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں گھریلو ٹوٹکے آزمانے کے بجائے فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔








