موسمیاتی تبدیلیوں سے غذائی عادات میں تبدیلی، صحت کو لاحق نئے خطرات

0
127
موسمیاتی تبدیلیوں سے غذائی عادات میں تبدیلی، صحت کو لاحق نئے خطرات

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے انسانی طرز زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایک حالیہ سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گرم موسم میں لوگوں کی غذائی عادات میں بھی نمایاں تبدیلی آتی ہے، خصوصاً میٹھے مشروبات اور آئس کریم کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو لوگ خود کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے زیادہ تر ٹھنڈی اور میٹھی اشیاء، جیسے سافٹ ڈرنکس، جوس اور آئس کریم کا استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ فوری طور پر سکون فراہم کرتی ہیں، لیکن طویل مدت میں ان کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی سے بھرپور ان اشیاء کا مسلسل استعمال موٹاپے، ذیابیطس اور دل کے امراض جیسے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ رجحان اس وقت اور بھی تشویشناک بن جاتا ہے جب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں گرم دنوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تحقیق میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ماحول کس طرح ہماری غذائی ترجیحات پر اثر انداز ہوتا ہے، اور اس سے جڑے اثرات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے تاکہ صحت مند زندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a reply