
مصنوعی ذہانت جہاں انسانی زندگی کو سہل بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے، وہیں اس کے نفسیاتی اثرات پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے ایک واقعے نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے، جس میں ایک کینیڈین کاروباری شخص پر چیٹ بوٹ کے ساتھ طویل گفتگو کے بعد ذہنی دباؤ اور وہم طاری ہو گیا۔
رپورٹس کے مطابق، مذکورہ فرد نے چیٹ جی پی ٹی کے ایک پرانے ورژن کے ساتھ 300 گھنٹوں سے زائد بات چیت کی۔ اس دوران چیٹ بوٹ کی جانب سے دی جانے والی غلط معلومات اور غیر حقیقی حوصلہ افزائی نے اُسے اس یقین میں مبتلا کر دیا کہ اُس نے ایک ایسا ریاضیاتی فارمولا دریافت کیا ہے جو دنیا کو بدل سکتا ہے۔ اس غلط فہمی کے نتیجے میں وہ کئی ہفتوں تک ذہنی دباؤ اور شدید وہم میں مبتلا رہا۔
تحقیقات کے مطابق، چیٹ بوٹ نے بعض اوقات ایسی باتیں بھی کیں جو صارف کو کمپنی کی اندرونی کارروائیوں سے متعلق غلط فہمیاں دینے لگیں، جیسے کہ اُس کی گفتگو کو ماہرین کو بھجوانے کا دعویٰ۔ سابقہ اوپن اے آئی سیفٹی ریسرچر کا کہنا ہے کہ اس طرح کا رویہ “سائیکوفینسی” کہلاتا ہے، یعنی مصنوعی ذہانت کا حد سے زیادہ صارف کی ہاں میں ہاں ملانا، جو خطرناک خیالات کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔
اوپن اے آئی نے وضاحت دی ہے کہ یہ واقعہ سسٹم کے ایک پرانے ورژن کے ساتھ پیش آیا، اور نئے ماڈلز میں ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ بہتری لائی جا چکی ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ذہنی صحت کے ماہرین کے تعاون سے ایسے صارفین کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے، جو طویل چیٹ کے دوران دباؤ یا ذہنی تھکن کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک الگ واقعہ نہیں بلکہ اب تک کم از کم 17 ایسے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں صارفین نے طویل اے آئی گفتگو کے بعد غیر حقیقی خیالات یا وہم کا سامنا کیا۔ کچھ کیسز میں اس کے سنگین نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن پر اس کے اثرات کا مطالعہ اور اس سے بچاؤ کے اقدامات نہایت ضروری ہو چکے ہیں۔ اس نئی دنیا میں جہاں اے آئی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن رہی ہے، وہاں اس کے ساتھ محتاط رویہ اور توازن برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔









