
وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کم عمر مسیحی لڑکی ماریہ بی بی اور مسلمان نوجوان شہریار کے درمیان ہونے والے نکاح کو شرعی اور قانونی طور پر درست قرار دے دیا ہے۔
عدالت کے مطابق مسلمان مرد کو اہلِ کتاب خواتین سے نکاح کی اجازت ہے، جبکہ چائلڈ میرج ایکٹ میں کم عمری کی شادی پر صرف سزا کا ذکر موجود ہے، نکاح کو کالعدم قرار دینے کی کوئی شق شامل نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ماریہ بی بی نے نکاح سے قبل اسلام قبول کیا تھا اور اس حوالے سے باقاعدہ ڈیکلریشن بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ حبسِ بے جا کی درخواست کے دائرہ کار میں لڑکی کی عمر یا مذہبی دستاویزات کی جانچ شامل نہیں ہوتی۔ آئینی تشریح کے حوالے سے عدالت نے کہا کہ اس کا فورم حتمی حیثیت رکھتا ہے اور دیگر تمام عدالتیں اس کے فیصلوں کی پابند ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر سپریم کورٹ کے کسی فیصلے میں آئین یا قانون سے تضاد پایا جائے تو آئینی عدالت اس کی پابند نہیں اور ایسے فیصلوں کو بطور نظیر ماننا ضروری نہیں۔
کیس کے پس منظر کے مطابق ماریہ بی بی نے اپنی مرضی سے شہریار سے شادی کی، جس پر اس کے والد نے اغواء اور حبسِ بے جا کی درخواستیں دائر کیں۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ نکاح باہمی رضامندی سے ہوا اور اس میں کسی قسم کی زبردستی یا اغواء شامل نہیں تھا۔









