قدیم مصر کے ہرموں کی تاریخ پر نئے شواہد نے پرانی رائے بدل دی

0
93
قدیم مصر کے ہرموں کی تاریخ پر نئے شواہد نے پرانی رائے بدل دی

قاہرہ: مصر کے مشہور عظیم ہرم، جو گیزا میں واقع ہے، صدیوں سے محققین اور دنیا کے لیے ایک معمہ بنا ہوا تھا۔ سب سے بڑا سوال یہ رہا کہ ہزاروں سال قبل، جب جدید مشینری موجود نہیں تھی، اتنے بھاری پتھروں کو اوپر کیسے پہنچایا گیا۔ اب سائنسدانوں نے اس حوالے سے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے۔
نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، عظیم ہرم کو بنانے کے لیے بیرونی ڈھلوانوں کا استعمال نہیں ہوا بلکہ ایک پیچیدہ اندرونی میکانیکی نظام بنایا گیا تھا۔ اس نظام میں رسیاں، لکڑی کے شہتیر اور چرخیوں جیسے میکانزم استعمال کیے گئے تاکہ بھاری پتھروں کو ہرم کے اندر سے اوپر منتقل کیا جا سکے۔
ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ، وائل کارنیل میڈیکل کالج، نیویارک کے محقق، کے مطابق ہرم کی اندرونی راہداریوں اور عظیم گیلری کو دراصل ایک اندرونی ڈھلوان کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس نظام کی مدد سے مزدور 60 ٹن تک وزنی پتھروں کو آسانی سے اٹھا سکتے تھے۔
تحقیق کے مطابق ہرم کے کچھ کمرے، جیسے ملکہ کا چیمبر، وسط میں نہیں بنائے گئے، کیونکہ وہاں اندرونی مشینری کے لیے جگہ ضروری تھی۔ ہرم کے اندر ایک چھوٹا گرینائٹ کمرہ بھی اسی نظام کا حصہ تھا، جہاں رسیاں اور لکڑی کے بیم استعمال کر کے بھاری پتھروں کو اوپر پہنچایا جاتا تھا۔
نئی تحقیق بتاتی ہے کہ ہرم تقریباً 20 سال میں مکمل ہوا اور ایک اندازے کے مطابق تقریباً ہر منٹ ایک پتھر نصب کیا گیا، جو روایتی ڈھلوانی طریقوں سے ممکن نہیں تھا۔ جدید تکنیکوں، جیسے میون شعاعوں سے کی جانے والی جانچ، نے ہرم کے اندر کسی بڑے خفیہ کمرے کے شواہد نہیں دکھائے، تاہم چھوٹی راہداریوں کے آثار موجود ہو سکتے ہیں۔
اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو ماہرین آثارِ قدیمہ کو قدیم مصر کے اہراموں کی تعمیر کے بارے میں اپنی روایتی رائے پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ یاد رہے کہ عظیم ہرم فرعون خوفو کا مقبرہ ہے اور تقریباً 2560 قبل مسیح میں تعمیر ہوا، یعنی یہ تقریباً 4,500 سال پرانا اور گیزا کا سب سے بڑا ہرم ہے۔

Leave a reply