فرانسیسی وزیراعظم اعتماد کا ووٹ نہ لے سکے، سیاسی بحران مزید گہرا

فرانس کے وزیراعظم فرانسوا بائرو پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے، جس کے نتیجے میں ان کی حکومت ختم ہو گئی۔ یہ فرانس کی جدید جمہوری تاریخ میں تیسری مرتبہ ہے کہ کسی حکومت کو پارلیمانی عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ووٹنگ کے دوران وزیراعظم کو 364 کے مقابلے میں صرف 194 ارکان کی حمایت حاصل ہو سکی۔ بائرو نے خود ہی مالی بحران سے نمٹنے کے لیے اعتماد کا ووٹ لینے کی قرارداد پیش کی تھی، مگر وہ اکثریت حاصل نہ کر سکے۔
ذرائع کے مطابق عوامی تعطیلات میں کمی، فلاحی اخراجات میں کٹوتی اور معاشی بحران سے نمٹنے میں ناکامی ان کے خلاف عدم اعتماد کی اہم وجوہات تھیں۔ انہوں نے دسمبر 2024 میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا۔
حکومت کے خاتمے پر اپوزیشن رہنما میریں لی پین نے فوری نئے عام انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے باعث یورپی یونین کی دوسری بڑی معیشت کو بحران کا سامنا ہے، اور صدر ایمانوئیل میکرون کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اب صدر میکرون کے پاس دو راستے ہیں: یا تو نئے وزیراعظم کی تقرری کریں یا پارلیمنٹ تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کریں، تاکہ 2026 کے بجٹ کی منظوری ممکن ہو سکے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں فرانس میں چار وزرائے اعظم تبدیل ہو چکے ہیں، اور سیاسی عدم استحکام کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ پارلیمان میں واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی میں مسلسل مشکلات درپیش رہی ہیں۔









