فارم 45 اور 47 کے نتائج کو محفوظ بنانے کی درخواست پر سماعت کیوں نہ ہوئی ؟

0
213
فارم 45 اور 47 کے نتائج کو محفوظ بنانے کی درخواست پر سماعت کیوں نہ ہوئی ؟

ہاٹ لائن نیوز : عام انتخابات کے نتائج کے فارم 45اور 47 کو محفوظ بنانے کیلیے درخواست پر آج سماعت نہ ہوسکی،جسٹس شجاعت علی خان بہاولپور بنچ پر مصروف تھے جس کی وجہ سے درخواست پر سماعت نہ ہوسکی۔

درخواست پر سماعت کی آئندہ تاریخ رجسٹرار آفس مقرر کرے گا ،جسٹس شجاعت علی خان نے شہری شیخ فضل الہی کی درخواست پر آج سماعت کرنا تھی ،اس درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے ۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے الیکشن ہوئے، انتخابات کے لیے ملک بھر میں 90 ہزار ریٹرنگ افسران، پریزیڈنٹ افسروں اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کا تقرر کیا گیا،الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کو فوری اپ لوڈ کرنے کے لیے آر اوز، ڈی۔ آر۔ اوز کے لیے ایک ایپ متعارف کرائی، جبکہ عام انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔

درخواست میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے فارم 45اور 47 میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، الیکشن کمیشن کے واضح احکامات کے باوجود الیکشن رزلٹ کو محفوظ نہ کیا اور نہ ہی ایپ پر اپ لوڈ کیا گیا ،پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 201، 202 اور 204 کے تحت شہادت ضائع ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت فارم 45 ۔47کو فوری الیکشن کمیشن کی ایپ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دے اور عدالت فارم 45 اور فارم 47 کو محفوظ بنانے کا حکم جاری کرے۔

Leave a reply