غزہ میں جنگ بندی: اسرائیل اور حماس میں تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا

0
86
غزہ میں جنگ بندی: اسرائیل اور حماس میں تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا

دو سال کی خونریز جنگ، تباہ کاریوں اور انسانی جانوں کے بڑے نقصان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید ابھری ہے۔ اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر باضابطہ طور پر دستخط کر دیے ہیں۔

یہ معاہدہ امریکا کی ثالثی اور قطر، مصر، اور ترکیہ کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں طے پایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے “امن کی جانب ایک تاریخی قدم” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے تحت تمام یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی، جبکہ اسرائیلی افواج غزہ کے مخصوص علاقوں سے انخلا کریں گی۔

قطری وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔ مکمل تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

فلسطینی تنظیم حماس نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ جامع ہے، اور اس پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی ضمانت ضروری ہوگی۔ ترجمان نے کہا کہ حماس معاہدے کی تمام شقوں پر قائم رہے گی لیکن اسرائیل کو بھی اس کا پابند بنایا جانا چاہیے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مختصر بیان میں کہا ہے کہ “ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو بحفاظت واپس لائیں گے۔”

امن معاہدے کی خبر آتے ہی غزہ کے مختلف علاقوں خصوصاً خان یونس میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے قومی پرچم اٹھا کر جشن منایا اور امن کے حق میں نعرے لگائے۔

یہ معاہدہ اگر کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a reply