
لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی طرف سے بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کا بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا ۔
عدالت نے سابق وزیراعظم کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس انوار الحق پنوں کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ۔ قبل ازیں عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد کچھ دیر کے لئے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا بعدزاں دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ۔ دو رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کا بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی ٫ عدالتی حکم پر پراسکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ پیش ہوئے ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اے ٹی سی کے جج نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا غیر قانونی ریمانڈ دیا۔
جسمانی ریمانڈ کے لیے ملزم کی موجودگی ضروری ہوتی لیکن بانی پی ٹی آئی کو پیش نہیں کیا گیا عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے موقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جسمانی ریمانڈ دیتے وقت قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ مناسب ثبوتوں کی عدم موجودگی اورجسمانی ریمانڈ دینے کے لیے ضروری ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔قانونی عمل کی خلاف ورزی کی گئی ہے ریمانڈ کی مدت اور اس کی بنیاد قانونی طور پر درست نہیں تھی یہ کیسز سیاسی دباؤ کے تحت بنائے گئے تھے اور ان کا مقصد عمران خان کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانا تھا دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کے خلاف درج بارہ مقدمات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور ان میں دہشت گردی، تشدد، اور عوامی امن و امان کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں تحقیقات کی ضرورت ہےسرکاری وکیل نے زور دیا کہ ان مقدمات کی تحقیقات ابھی مکمل
نہیں ہوئی ہیں اور جسمانی ریمانڈ کا مقصد یہی ہے کہ ملزم سے مکمل تحقیقات کی جا سکے اور حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا بعدزاں دو رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کی دائر درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ۔









