طبی شعبے میں اے آئی کے استعمال سے خطرات بڑھنے لگے

0
32
طبی شعبے میں اے آئی کے استعمال سے خطرات بڑھنے لگے

امریکا میں طبی آلات بنانے والی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنے آلات میں شامل کرنے کی رفتار تیز کر دی ہے، لیکن تازہ رپورٹس کے مطابق اس کے باعث مریضوں کو نقصان پہنچنے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
جونسن اینڈ جونسن کی ذیلی کمپنی ’ایکلیرینٹ‘ نے 2021 میں اپنے ٹرو-ڈی نیویگیشن سسٹم میں اے آئی شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ نظام کان، ناک اور گلے کی سرجری کے دوران سرجنز کو رہنمائی فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نئے سافٹ ویئر میں مشین لرننگ الگورتھم کی مدد سے آلات کی درست پوزیشن دکھانے کا دعویٰ کیا گیا۔
تاہم، امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کو اس آلے سے متعلق 100 سے زائد ممکنہ نقصانات اور حادثات کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ 2021 سے نومبر 2025 تک کم از کم 10 مریض ایسے کیسز میں چوٹیں کھا بیٹھے، جن میں آلات کی غلط پوزیشن کی معلومات نے سر میں سیریبرواسپائنل فلوئڈ کے رساؤ، کھوپڑی میں سوراخ، اور بعض میں آرٹری کی چوٹ کے باعث اسٹروک جیسے واقعات جنم دیے۔
دو متاثرہ مریضوں نے ٹیکساس میں مقدمات بھی دائر کیے ہیں، جن میں اے آئی کے استعمال کی وجہ سے ہونے والی چوٹوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ’ایکلیرینٹ‘ اور اس کے مالک انٹیگرا لائف سائنس نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ اے آئی اور چوٹوں کے درمیان کوئی واضح تعلق ثابت نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق اے آئی صحت کے شعبے میں نایاب بیماریوں کے علاج، نئی دواؤں کی دریافت اور سرجنز کی مہارت بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، مگر آلات کی غلط استعمال یا الگورتھمز کی خامیوں سے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ایف ڈی اے کے مطابق کم از کم 1،357 طبی آلات میں اے آئی استعمال ہو رہا ہے، اور ٹروڈی سسٹم ایک نمایاں مثال ہے۔ دیگر آلات میں دل کے مانیٹر یا الٹراساؤنڈ جیسے آلات نے غیر معمولی دھڑکن یا جنین کے اعضا کی شناخت میں غلطی کی رپورٹس بھی دی گئی ہیں۔
جونز ہاپکنز، جورج ٹاؤن اور ییل یونیورسٹی کے محققین نے بتایا کہ 60 اے آئی آلات میں 182 واقعات پیش آئے، جن میں 43 فیصد ایک سال کے اندر ہوئے، اور بعض آلات کا استعمال روکنا پڑا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے فوائد تو بہت ہیں، لیکن حفاظتی اور ریگولیٹری اقدامات کی کمی مریضوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ لہٰذا، اے آئی والے طبی آلات کو احتیاط سے استعمال کرنا اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

Leave a reply