
آج کے جدید دور میں جہاں سہولتوں نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے، وہاں جسمانی سرگرمیاں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ لفٹ یا ایلیویٹر کا استعمال عام ہو چکا ہے، لیکن کبھی کبھار جب سیڑھیاں چڑھنا پڑ جائے تو کچھ افراد صرف ایک منزل کے بعد ہی تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اگر سیڑھیاں چڑھتے ہی سانس پھولنے لگے یا دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز ہو جائے، تو یہ صرف کمزوری یا فٹنس کی کمی نہیں بلکہ جسم کے اندر کسی پوشیدہ خرابی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔
ممکنہ طبی وجوہات:
خون میں آئرن یا ہیموگلوبن کی کمی: جس سے جسم کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور تھکن جلد محسوس ہوتی ہے۔
پھیپھڑوں کی کمزوری یا سانس لینے کا غلط انداز: جس سے آکسیجن کی جذب ہونے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
وٹامن ڈی اور بی 12 کی کمی: یہ وٹامنز توانائی اور قوتِ مدافعت کے لیے اہم ہیں۔
جسم میں ٹاکسن کا جمع ہونا: میٹابولزم کو سست کر دیتا ہے اور اسٹیمینا کم ہو جاتا ہے۔
ہارمونی بگاڑ یا جسمانی کمزوری: فٹنس کی کمی کی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے آسان طریقے:
آملہ اور چقندر کا جوس استعمال کریں: یہ آئرن اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے۔
روزانہ سانس کی ورزش کریں: کم از کم 5 منٹ کی مشق پھیپھڑوں کو مضبوط کرتی ہے۔
بھگوئے ہوئے کشمش اور کڑی پتے کھائیں: قدرتی آئرن کا ذریعہ ہیں۔
تھوڑا تھوڑا کر کے سیڑھیاں چڑھنے کی عادت اپنائیں: آہستہ آہستہ اسٹیمینا میں اضافہ ہوگا۔
وقت پر کھانا کھائیں اور غذا متوازن رکھیں: بغیر کھائے وزن کم کرنے کی کوششیں جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اگر یہ علامات مستقل رہیں تو ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ایک صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش نہ صرف توانائی بحال کرتی ہے بلکہ دل و پھیپھڑوں کو طویل عرصے تک صحت مند رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔









