“سولو ڈیٹس کی آمد: نوجوان تنہائی کو خوشی میں بدل رہے ہیں”

0
84
“سولو ڈیٹس کی آمد: نوجوان تنہائی کو خوشی میں بدل رہے ہیں”

دبئی: فروری کے مہینے میں جب مارکیٹیں سرخ گلاب اور رومانوی ڈنرز سے بھر جاتی ہیں، وہاں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے جس میں نوجوان جان بوجھ کر اکیلے کھانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں خاص طور پر جین زی (1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) اکیلے کھانا کھانے کو کمزوری یا اداسی کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ یہ ایک شعوری اور طاقتور انتخاب سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے یہ عمل خود کو اہمیت دینے، آزادی محسوس کرنے اور اپنی زندگی کا مرکزی کردار بننے کا ذریعہ ہے۔
26 سالہ دبئی کی رہائشی زینب ادیجوموکے جموہ نے اپنی 24 ویں سالگرہ پر پہلی بار اکیلے ریستوران میں کھانا کھایا اور اسے حوصلہ افزا تجربہ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ عمل انہیں خود پر اعتماد اور خوشی دیتا ہے۔ اسی طرح پاکستان سے تعلق رکھنے والی نورالعین ہر ہفتے اکیلے کافی پینے کو اپنا معمول بنا چکی ہیں، جس سے وہ ذہنی سکون اور خود شناسی حاصل کرتی ہیں۔
ماہر نفسیات عیرہ نعیم کے مطابق، عوامی مقامات پر اکیلے کھانے کا خیال پرانے سماجی تصورات کی وجہ سے اکثر غیر آرام دہ محسوس ہوتا تھا، لیکن جین زی اسے اپنے لیے وقت نکالنے اور ذہنی ری چارج ہونے کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں۔
دبئی میں کئی کیفے اور ریستوران اس رجحان کے مطابق اپنے ماحول کو ڈھال رہے ہیں۔ پاؤس کیفے کی بانی صوفیہ فیضل کے مطابق، لوگ یہاں نہ صرف کافی پینے آتے ہیں بلکہ جرنل لکھنے، کتابیں پڑھنے اور خاموش وقت گزارنے کے لیے بھی آتے ہیں۔ اعلیٰ درجے کے ریستوران بھی اب اکیلے آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، جو مکمل کھانے کا آرڈر دے کر اپنی شام کا لطف اٹھاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کے دوران جو دباؤ اکثر محسوس ہوتا تھا کہ انسان کسی کے ساتھ ہو، اب نوجوان اس دن کو خود سے محبت، دوستوں کی اہمیت اور سوشل میڈیا سے وقفہ لینے کا موقع سمجھنے لگے ہیں۔
یوں متحدہ عرب امارات میں اکیلے کھانے کا رجحان محض فیشن نہیں بلکہ سماجی رویوں میں تبدیلی کی علامت بن رہا ہے، جہاں تنہائی کو اب کمزوری نہیں بلکہ طاقت اور خودی کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔

Leave a reply