سفر حج کی ناقابل یقین ایک سچی داستان

سفر حج کی ناقابل یقین ایک سچی داستان
لیبیا کے رہائشی نوجوان عامر المہدی القذافی نے اس سال حج ادا کرنے کا ارادہ کیا لیکن ایئرپورٹ پر عامر کو امیگریشن پر روک لیا گیا کیونکہ اس کے خاندانی نام ’القذافی‘ کے سبب سیکیورٹی سسٹمز میں تاخیر ہوئی، عامر کے ساتھ حج پر جانے والے عازمین کا گروپ جہاز میں سوار ہو گیا البتہ انہیں امیگریشن کاؤنٹر پر روکے رکھا گیا، بہت ساری درخواستوں کے باوجود بھی کپتان نے سیکیورٹی خدشات اور شیڈول کی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے چھوڑ کر روانگی پر اصرار کیا لیکن وہ اپنے ارادے پر قائم رہا اور عامر نے کہا کہ ’میں یہاں سے حج پر ہی جاؤں گا، ورنہ یہیں رہوں گا کہیں نہیں جاؤں گا ؛
اڑان کے کچھ ہی لمحوں بعد پرواز میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی اور جہاز واپس لانا پڑا، معمولی مرمت کے بعد جب پرواز دوبارہ روانہ ہوئی، تو اسے ایک اور مسئلہ درپیش ہوا جس کے سبب اسے دوبارہ لوٹنا پڑا، دوسری ہنگامی لینڈنگ کے بعد پرواز کے کپتان نے اعلان کیا کہ ’میں قسم کھاتا ہوں کہ جب تک عامر ہمارے ساتھ اس طیارے میں سوار نہ ہوا، میں دوبارہ پرواز نہیں کروں گا‘، حکام نے فوری طور پر عامر کو سفر کی اجازت دی اور تیسری بار جب عامر طیارے میں سوار ہوا تو جہاز بغیر کسی مسئلے کے روانہ ہو گیا۔









