
کراچی ایئرپورٹ پر معروف سماجی کارکن سعد ایدھی کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں کارکنوں اور شہریوں نے اُن پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ وہ اسرائیلی حراست سے رہائی کے بعد وطن واپس پہنچے۔
سعد ایدھی غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے فلوٹیلا مشن میں شامل تھے، جس دوران اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی سمندر میں کارروائی کرتے ہوئے قافلے کو روک لیا تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعد ایدھی نے بتایا کہ امدادی فلوٹیلا پر غزہ سے تقریباً دو سو ناٹیکل میل دور دھاوا بولا گیا۔ اُن کے مطابق دورانِ حراست انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور مختلف مقامات پر منتقل کیا جاتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ قید کے دوران محدود خوراک فراہم کی گئی جبکہ احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال بھی کی گئی۔ سعد ایدھی کے مطابق یہ مشن انسانیت کی خدمت اور فلسطینی عوام کی مدد کے لیے تھا۔
اس موقع پر فیصل ایدھی نے کہا کہ سعد ایدھی نے انسانیت کی خدمت اور فلسطینیوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے یہ مشن اختیار کیا۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ حقیقی خوشی اُس وقت مکمل ہوگی جب فلسطینی قیدی بھی آزاد ہوں گے۔









