سردیوں میں سانس کے ساتھ دکھائی دینے والی بھاپ کی سائنسی وجہ کیا ہے؟

0
68
سردیوں میں سانس کے ساتھ دکھائی دینے والی بھاپ کی سائنسی وجہ کیا ہے؟

سرد موسم میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بات کرتے یا سانس باہر نکالتے وقت منہ سے سفید سی بھاپ نکلتی محسوس ہوتی ہے۔ بچپن میں بہت سے لوگ اسے انجن کی طرح دھواں چھوڑنے کا مزاحیہ کھیل سمجھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن یہی منظر گرمیوں میں دکھائی کیوں نہیں دیتا؟ حالانکہ انسانی جسم کا درجۂ حرارت ہر موسم میں تقریباً یکساں رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس عمل کی وجہ ایک سادہ سائنسی اصول ہے جسے کنڈینسیشن کہا جاتا ہے۔ انسانی پھیپھڑے اندر لی جانے والی ہوا کو گرم کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں نمی بھی شامل کرتے ہیں تاکہ سانس کی نالیاں محفوظ رہیں۔
جب یہ گرم اور مرطوب ہوا سرد اور خشک ماحول میں خارج ہوتی ہے تو درجۂ حرارت میں اچانک فرق پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ہوا میں موجود نمی باریک پانی کے قطروں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہی ننھے قطرے ہمیں بھاپ یا دھوئیں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنا زیادہ موسم سرد ہوگا، یہ بھاپ اتنی ہی واضح دکھائی دے گی کیونکہ ٹھنڈی فضا نمی کو زیادہ تیزی سے گاڑھا کر دیتی ہے۔ یہ کسی قسم کا دھواں نہیں بلکہ صرف پانی کے ذرات ہوتے ہیں اور یہ عمل مکمل طور پر قدرتی اور بے ضرر ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ پھیپھڑے اپنا کام درست طریقے سے انجام دے رہے ہیں اور سانس کے ذریعے آنے والی ہوا کو جسم کے لیے موزوں بنا رہے ہیں۔ تاہم اگر سردیوں میں کسی فرد کو مسلسل کھانسی، سینے میں جکڑن، سانس لینے میں دشواری یا بلغم کی شکایت ہو تو یہ سانس کی نالیوں کی حساسیت، الرجی یا کسی اندرونی سوزش کی نشاندہی بھی ہو سکتی ہے۔
بچوں میں یہ بھاپ بعض اوقات زیادہ نمایاں ہوتی ہے کیونکہ ان کے پھیپھڑے تیزی سے ہوا کو گرم کرتے ہیں، جبکہ بزرگ افراد میں سانس کی نالیاں زیادہ حساس ہونے کے باعث یہ عمل مختلف انداز میں دکھائی دے سکتا ہے۔
گرمیوں کے موسم میں چونکہ بیرونی درجۂ حرارت پہلے ہی زیادہ ہوتا ہے، اس لیے سانس کے ساتھ خارج ہونے والی نمی فوراً گاڑھی نہیں ہوتی اور بھاپ جیسا منظر نظر نہیں آتا، حالانکہ نمی بدستور موجود رہتی ہے۔
ماہرین صحت سردیوں میں سانس کی تکالیف سے بچاؤ کے لیے مشورہ دیتے ہیں کہ جسم کو گرم رکھا جائے، ناک سے سانس لینے کی عادت اپنائی جائے اور شدید سردی میں منہ کھول کر سانس لینے سے گریز کیا جائے۔ باہر نکلتے وقت ناک اور منہ کو اسکارف یا کپڑے سے ڈھانپنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے تاکہ ٹھنڈی ہوا کسی حد تک گرم ہو کر پھیپھڑوں تک پہنچے اور نقصان کے امکانات کم ہوں۔

Leave a reply