
پاکستان میں سونے کی قیمت روزانہ عالمی منڈی کے ریٹس کے مطابق طے کی جاتی ہے، جس کا اثر زیورات کی خرید و فروخت پر پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام خریدار اکثر قیمت کے تعین اور قیراط کے فرق کے سبب نقصان اٹھا بیٹھتے ہیں۔
کراچی جیولرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر عبد اللہ عبدالرزاق کے مطابق، سونے کی قیمت معلوم کرنے کا سادہ طریقہ یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کا ریٹ انٹربینک ڈالر ریٹ سے ضرب دے کر پاکستانی روپے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک اونس کے 31.100 گرام سے تقسیم کرنے سے فی گرام کی قیمت معلوم ہوتی ہے، اور پھر گرام کے نرخ کو 11.664 سے ضرب دے کر فی تولہ کی قیمت نکالی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر، اگر عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 4703 ڈالر ہو، تو پاکستانی روپے میں فی تولہ کی قیمت تقریباً 4 لاکھ 96 ہزار روپے بنتی ہے۔ یہ حساب روزانہ بدلنے والے ریٹس کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
زیور کی خرید و فروخت میں وزن کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ سنیارے زیور بنانے کے دوران بعض اوقات دو سے تین ماشے تک وزن کم کر لیتے ہیں، جس سے خریدار کو مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، زیور میں قیراط کے فرق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ 24 قیراط سونا خالص ترین سمجھا جاتا ہے، جبکہ 18 یا 15 قیراط میں ملاوٹ شامل ہوتی ہے۔ اکثر جیولرز 18 یا 15 قیراط زیور تیار کرتے ہیں، جبکہ 21 یا 22 قیراط زیور محدود مقدار میں دستیاب ہوتا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ زیور بنواتے وقت قیراط کی تصدیق اور قیمت اسی حساب سے طے کی جائے۔ اسی طرح زیور بیچتے وقت اسے پہلے 24 قیراط میں تبدیل کروانا بہتر ہے تاکہ خالص سونے کی قیمت پر فروخت کی جا سکے۔
یہ نظام عالمی منڈی، مقامی ریٹس، وزن، قیراط اور کاریگری سے جڑا ہوا ہے، اور ان تمام عوامل کو سمجھ کر خریدار اور فروخت کنندہ اپنے مالی نقصان سے بچ سکتے ہیں۔









