زمین کے 9 میں سے 7 ماحولیاتی نظام خطرناک حد عبور کر گئے، نئی عالمی تحقیق

0
11
زمین کے 9 میں سے 7 ماحولیاتی نظام خطرناک حد عبور کر گئے، نئی عالمی تحقیق

ویب ڈیسک: عالمی سطح پر ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ زمین کے نو اہم ماحولیاتی نظاموں میں سے سات انسانی سرگرمیوں کے باعث مقررہ محفوظ حدود سے تجاوز کر چکے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ان نظاموں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس سے مستقبل میں بڑے ماحولیاتی نقصانات کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

2026 کے پلینیٹری ہیلتھ چیک میں دنیا بھر سے 60 سے زیادہ سائنس دانوں نے زمین کے بنیادی ماحولیاتی نظاموں کا جائزہ لیا۔ یہ تحقیق پوٹسڈیم انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ امپیکٹ ریسرچ کی پلینیٹری باؤنڈریز سائنس لیب کے تحت تیار کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق جن سات شعبوں میں محفوظ حد عبور ہو چکی ہے، ان میں موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی سالمیت، زمین کے استعمال میں تبدیلی، میٹھے پانی کے نظام، نائٹروجن اور فاسفورس کے قدرتی چکر میں خلل، مصنوعی کیمیکلز و پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی اور سمندری تیزابیت شامل ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سمندروں کی تیزابیت بھی اب عالمی محفوظ حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ دوسری جانب اوزون کی تہہ کی صورتحال میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ فضائی ایروسول کے معاملے میں عالمی سطح پر مقررہ حد عبور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم کئی علاقوں میں فضائی ذرات کی مقدار تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق پلینیٹری باؤنڈریز کا تصور اس لیے متعارف کرایا گیا تھا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں زمین کے قدرتی نظاموں پر کتنا دباؤ پڑ سکتا ہے اور اس کے باوجود انسانوں کے لیے نسبتاً محفوظ ماحول برقرار رہ سکتا ہے۔

ماہرین واضح کرتے ہیں کہ کسی حد کا عبور ہونا فوری طور پر زمین کی تباہی کا مطلب نہیں، تاہم اس سے ایسے طویل مدتی اور بڑے پیمانے کے ماحولیاتی تغیرات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جنہیں واپس پہلے جیسی حالت میں لانا مشکل ہو سکتا ہے۔

ایمیزون پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے

تحقیق میں ایمیزون کے جنگلات کو بھی ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ جنگلات کاربن ذخیرہ کرنے اور عالمی موسمیاتی نظام میں توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، بڑھتا درجہ حرارت اور دیگر انسانی سرگرمیاں ایمیزون کے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر رہی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دباؤ جاری رہا تو ایمیزون کے بعض حصوں میں ایسی بڑی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں جو عالمی آب و ہوا کے ساتھ ساتھ خوراک اور پانی کے نظام کو بھی متاثر کریں۔

رپورٹ میں دریاؤں، دلدلی علاقوں، زیر زمین پانی، جنگلات اور سمندری ماحول پر انسانی دباؤ میں اضافے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق زمین کے استعمال میں تبدیلی، آلودگی، قدرتی وسائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج مختلف ماحولیاتی نظاموں کو ایک ساتھ متاثر کر رہا ہے۔

صورتحال مکمل طور پر ناقابلِ واپسی نہیں

تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سائنس دان موجودہ صورتحال کو ناگزیر انجام قرار نہیں دیتے۔ ان کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی، قدرتی علاقوں کا تحفظ اور متاثرہ ماحولیاتی نظاموں کی بحالی کے ذریعے زمین کو دوبارہ محفوظ حدود کے قریب لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق زمین کے مختلف قدرتی نظام ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، اس لیے موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع، آلودگی، پانی اور قدرتی وسائل کے مسائل کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک مربوط ماحولیاتی چیلنج کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

تحقیق کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ ماحولیاتی دباؤ میں کمی اور قدرتی نظاموں کی بحالی کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں، کیونکہ بعض تبدیلیاں اگر طویل عرصے تک جاری رہیں تو انہیں واپس لانا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

Leave a reply