
رمضان المبارک میں روزہ رکھنا جہاں روحانی عبادت ہے وہیں طبی ماہرین کے مطابق اس کے جسمانی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مخصوص وقفے تک کھانے سے پرہیز جسم کو خود کو منظم اور مرمت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب انسان کئی گھنٹوں تک کچھ نہیں کھاتا تو جسم توانائی کے لیے جمع شدہ چربی استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل سے میٹابولزم بہتر ہوتا ہے، سوزش میں کمی آتی ہے اور جسم پرانے یا غیر فعال خلیات کو صاف کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف وزن اور ہاضمہ بہتر ہو سکتے ہیں بلکہ طویل المدتی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزے کے دوران انسولین کی سطح کم ہو جاتی ہے، جس سے شوگر کنٹرول میں رہتی ہے اور ذیابیطس کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔ اسی طرح گروتھ ہارمون میں اضافہ جسم کی مرمت اور پٹھوں کی مضبوطی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سوزش کم ہونے سے دل اور دماغ کی صحت پر بھی اچھے اثرات پڑتے ہیں۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عمر رسیدگی کا تعلق صرف ظاہری شکل سے نہیں بلکہ جسمانی نظام کی مجموعی کارکردگی سے ہے، جیسے خون میں شوگر اور کولیسٹرول کی سطح، دل کی صحت، ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی اور ہارمونز کا توازن۔ روزہ ان عوامل کو متوازن رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ افطار اور سحری میں متوازن غذا لی جائے۔
البتہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر مناسب مقدار میں پروٹین اور غذائیت نہ لی جائے یا جسمانی سرگرمی کم ہو تو طویل وقفے سے پٹھوں کی کمزوری کا خدشہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے متوازن خوراک، مناسب نیند اور ہلکی پھلکی ورزش کو معمول کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رمضان کے بعد بھی کھانے کے اوقات میں اعتدال، رات کو دیر سے کھانے سے پرہیز اور صحت مند طرزِ زندگی کو برقرار رکھا جائے تو روزے کے فوائد زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں۔
یوں رمضان کو نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی تازگی کا موقع بھی قرار دیا جا سکتا ہے، جو انسان کو چست، متوازن اور صحت مند زندگی کی جانب گامزن کرتا ہے۔









