رمضان میں آن لائن خیرات کے دھوکہ دہی کے نئے طریقے

رمضان کے مہینے میں خیرات دینے کے بڑھتے رجحان کے دوران، آن لائن بھیک مانگنے کے طریقے اب پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور ٹیکنالوجی سے لیس ہو چکے ہیں۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کچھ گروہ اب اے آئی ٹولز کا استعمال کر کے جعلی تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزات تیار کرتے ہیں تاکہ عوام کی ہمدردی اور عطیہ دینے کی خواہش کو بھڑکایا جا سکے۔
یو اے ای کے حکام کے مطابق، ہر آن لائن اپیل کے پیچھے حقیقی ضرورت مند نہیں ہوتے، اور بہت سی پوسٹس مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی جاتی ہیں۔ واٹس ایپ گروپس، انسٹاگرام پوسٹس اور کمیونٹی پیجز پر ایسے مواد کی تیزی سے تقسیم کی جاتی ہے، جس میں بچوں یا بزرگ افراد کی مبینہ بیماری کی کہانیاں شامل ہوتی ہیں۔
بریگیڈیر علی سلیم نے بتایا کہ دھوکہ دہی کرنے والے اب اے آئی سے تیار شدہ تصاویر، جعلی میڈیکل رپورٹس اور دیگر ڈیجیٹل مواد استعمال کرتے ہیں تاکہ عوام کی ہمدردی کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا، “ایک تیار کی گئی تصویر ہزاروں بار شیئر کی جا سکتی ہے، جبکہ جعلی دستاویزات ہزاروں درہم جمع کروا سکتی ہیں۔”
یو اے ای کی سیکیورٹی فورسز کے پاس جدید نگرانی اور ڈیجیٹل فارنزک ٹولز موجود ہیں جو ایسے نیٹورکس کی شناخت اور ذمہ دار افراد تک رسائی میں مدد دیتے ہیں۔ بریگیڈیر عمر احمد ابو الزود، ڈائریکٹر جنرل، جنرل ڈیپارٹمنٹ آف کرمنل سیکیورٹی اینڈ پورٹس نے کہا کہ رمضان کے دوران یہ سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں اور جعلی اپیلیں حقیقی خیراتی اداروں کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
حکام نے عوام سے تاکید کی ہے کہ صرف لائسنس یافتہ خیراتی اداروں کے ذریعے عطیات دیں اور نجی بینک اکاؤنٹس یا کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقم منتقل کرنے سے گریز کریں۔ مشکوک اپیلیں فوری طور پر پولیس یا سائبر کرائم پلیٹ فارمز پر رپورٹ کی جائیں۔
قانونی نقطہ نظر سے، یو اے ای میں غیر قانونی آن لائن بھیک مانگنے پر فیڈرل ڈکری لاء نمبر 34 برائے 2021 کے تحت تین ماہ قید اور دس ہزار درہم جرمانہ ہو سکتا ہے۔ منظم نیٹورکس کے لیے چھ ماہ یا زیادہ قید اور ایک لاکھ درہم سے زائد جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ بغیر اجازت فنڈ ریزنگ کے لیے پانچ سال تک قید اور 2.5 لاکھ سے ایک ملین درہم تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
شہریوں نے بھی اس دھوکہ دہی کے اثرات کا سامنا کیا ہے، جس میں انہیں معلوم ہوا کہ کچھ دی گئی امداد اصل ضرورت مند تک نہیں پہنچی۔ حکام نے کہا کہ رمضان میں خیرات کے دوران محتاط رویہ اختیار کرنا اور صرف مستند اداروں کے ذریعے عطیات دینا ضروری ہے۔









