
دل کی بیماریاں آج دنیا بھر میں سب سے عام اور مہلک امراض میں شمار ہوتی ہیں۔ ہارٹ اٹیک، اسٹروک اور دیگر قلبی مسائل نہ صرف زندگی کی مدت کو کم کرتے ہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں معیارِ زندگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے چند سادہ روزمرہ عادات اپنا کر دل کی بیماریوں کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق درج ذیل نکات پر عمل دل کی صحت برقرار رکھنے اور ہارٹ اٹیک کے امکانات گھٹانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے:
1. تمباکو نوشی سے پرہیز
سگریٹ اور تمباکو خون کی شریانوں کو سخت کرتے ہیں اور خون میں خراب کولیسٹرول (LDL) کی سطح بڑھا سکتے ہیں، جس سے شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ غیر نوش کرنے والوں کے مقابلے میں تقریباً دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اگر سگریٹ نوشی کی عادت ہو تو اس سے فوری اور مکمل پرہیز دل کی صحت کے لیے سب سے مؤثر قدم ہے۔
2. روزانہ جسمانی سرگرمی
روزانہ کم از کم 30 سے 60 منٹ کی ورزش جیسے تیز واک، سائیکلنگ، تیراکی یا ہلکی دوڑ دل کی پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو متوازن رکھتی ہے اور خون کی روانی بہتر بناتی ہے۔ ورزش انسولین کے حساسیت کو بہتر کر کے شوگر کے مرض سے بچاؤ میں بھی مددگار ہے۔ ماہرین ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
3. صحت مند اور متوازن غذا
دل کی صحت کے لیے غذائی انتخاب بہت اہم ہے۔ سبزیاں، پھل، سالم اناج، دالیں، مچھلی اور کم چکنائی گوشت دل کو مضبوط بناتے ہیں۔ اومیگا-3 فیٹی ایسڈ والی غذائیں، جیسے مچھلی اور اخروٹ، دل کی شریانوں میں سوزش کو کم کرتی ہیں اور خون پتلا کرتی ہیں۔ ماہرین تلی ہوئی، زیادہ چکنائی والی اور پراسیسڈ فوڈ سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ یہ خراب کولیسٹرول (LDL) کو بڑھا کر شریانوں میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔
4. وزن اور بلڈ پریشر کی نگرانی
اضافی وزن دل پر بوجھ ڈال سکتا ہے اور بلند بلڈ پریشر شریانوں کو نقصان پہنچا کر ہارٹ اٹیک کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ وقتاً فوقتاً وزن اور بلڈ پریشر کی جانچ کے ساتھ ساتھ جسمانی ماس انڈیکس (BMI) کا حساب رکھنا دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ وزن میں 5 سے 10 فیصد کمی سے بھی دل کی بیماریوں کے خطرات نمایاں طور پر کم ہو سکتے ہیں۔
5. پر سکون نیند
ہر رات 7 سے 9 گھنٹے کی نیند دل اور جسم کی عمومی صحت کے لیے ضروری ہے۔ نیند کی کمی ہارمونز کے توازن کو متاثر کرتی ہے، جس سے بلڈ پریشر اور شوگر لیول بڑھ سکتے ہیں اور دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ نیند کی کمی کے نتیجے میں سٹریس ہارمون (کورٹیسول) زیادہ پیدا ہوتا ہے جو دل کی شریانوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
6. ذہنی دباؤ کم کریں
طویل المدتی ذہنی دباؤ دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ مسلسل اسٹریس بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو متاثر کرتا ہے، اور شریانوں میں سوزش (Inflammation) بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ کم از کم 10 سے 20 منٹ مراقبہ، یوگا، یا گہری سانس لینے کی مشق کریں تاکہ دل اور دماغ دونوں پر سکون رہے۔
7. ریگولر صحت کے معائنہ
دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں بروقت تشخیص کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ٹرائی گلیسراڈز اور خون میں شوگر کے لیول کی باقاعدہ جانچ سے ابتدائی خطرات کا پتہ چلتا ہے اور بروقت علاج ممکن ہو پاتا ہے۔ 40 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہر سال دل کی صحت کا مکمل چیک اپ کروانا چاہیے۔
8. کیفین کا مناسب استعمال
زیادہ مقدار میں الکحل دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ کیفین کی زیادہ مقدار بھی ہارٹ ریٹ بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کیفین صرف معتدل مقدار میں لیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ تمام عادات اگر روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں تو دل کی بیماریوں کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ صحت مند دل نہ صرف زندگی کی مدت بڑھاتا ہے بلکہ روزمرہ زندگی میں توانائی اور معیارِ زندگی بھی بہتر بناتا ہے۔









