درد کم کرنے والی ادویات کا بےجا استعمال گردوں کے لیے خطرناک

0
48
درد کم کرنے والی ادویات کا بےجا استعمال گردوں کے لیے خطرناک

ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ درد اور سوزش کم کرنے والی ادویات کا مسلسل یا غیر ضروری استعمال گردوں کی صحت کو خاموشی سے متاثر کر سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق عام طور پر استعمال ہونے والی درد کش ادویات، خصوصاً غیر سٹیرائیڈ اینٹی انفلامیٹری ادویات وقتی طور پر آرام تو فراہم کرتی ہیں لیکن ان کا زیادہ استعمال گردوں میں خون کی روانی کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے ان کی فلٹرنگ صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔
گردے انسانی جسم میں خون کی صفائی، اضافی پانی کے اخراج اور نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور خون بنانے کے عمل میں بھی مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی، زیادہ نمک کا استعمال، سگریٹ نوشی اور بغیر ضرورت دوا لینا گردوں کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔ درد کی عام ادویات چونکہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں، اس لیے لوگ اکثر انہیں بغیر مشورے کے زیادہ استعمال کر لیتے ہیں۔
طبی رپورٹس کے مطابق ان ادویات کا مسلسل استعمال اچانک گردوں کی خرابی کا باعث بن سکتا ہے جبکہ طویل عرصے تک استعمال دائمی گردوں کی بیماری کے امکانات بڑھا دیتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے سے ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوں۔
کچھ کیسز میں یہ ادویات گردوں کو مستقل نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں جو سنگین حالت میں گردوں کے فیل ہونے تک جا سکتا ہے، اور یہ مسئلہ نوجوانوں میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ درد کش ادویات صرف ضرورت کے وقت اور مختصر مدت کے لیے استعمال کی جائیں۔ ہلکے درد کے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے نسبتاً محفوظ متبادل استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ پانی کا زیادہ استعمال اور صحت مند طرزِ زندگی گردوں کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خود علاج سے گریز کیا جائے اور کسی بھی دوا کے استعمال سے پہلے طبی مشورہ لازمی لیا جائے تاکہ گردوں کو طویل المدتی نقصان سے بچایا جا سکے۔

Leave a reply