
پیانگ یانگ: شمالی کوریا میں حکمراں جماعت ’ورکرز پارٹی آف کوریا‘ کے قیام کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک بڑی فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت ملک کے رہنما کم جونگ اُن نے کی۔ اس موقع پر ملکی دفاعی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔
پریڈ کا مرکزِ نگاہ شمالی کوریا کا جدید ترین بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل ’ہواسونگ-20‘ تھا، جسے پہلی بار عوامی طور پر پیش کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ میزائل بیک وقت کئی وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے ملک کے نیوکلیئر دفاعی نظام میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پریڈ میں چین، روس اور ویتنام سمیت کئی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ چینی وزیرِاعظم لی کیانگ، روسی وفد کی قیادت سابق صدر دمتری میدویدیف نے کی جبکہ ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما تو لام بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
اس موقع پر کم جونگ اُن نے فوجی جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوج نہ صرف ملکی دفاع بلکہ بین الاقوامی سطح پر سوشلسٹ نظریات کی ترویج میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی افواج کو ناقابل شکست قوت میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
پریڈ سے قبل کم جونگ اُن نے روسی وفد سے ملاقات بھی کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ ملاقات میں سابق روسی صدر نے یوکرین کے تنازع میں شمالی کوریا کے ممکنہ کردار پر اظہارِ تشکر کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی گئی۔








