
اسلام آباد: حکومت نے پارلیمانی قانون سازی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اپنی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب کسی بھی سرکاری بل کو پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے مشاورت اور منظوری لازمی ہوگی۔
وزارت قانون و انصاف کو وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ پیپلزپارٹی کی منظوری کے بغیر کوئی بھی بل پارلیمان میں پیش نہ کیا جائے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا، اور اس کے بعد اتحادی جماعتوں کے ساتھ بہتر رابطہ کاری کے لیے نئے اقدامات کیے گئے ہیں۔
اس مقصد کے لیے پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان کی قیادت میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی۔ نئے طریقہ کار کے تحت پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا، پھر پیپلزپارٹی کی منظوری حاصل کی جائے گی، اور اس کے بعد بل پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اتحادی حکومت میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور قانون سازی کے عمل کو بلا رکاوٹ آگے بڑھانا ہے۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع نے بھی کہا ہے کہ پارٹی آئندہ بھی ہر بل کو عوامی مفاد کے تناظر میں جانچ کر اپنی رائے دے گی۔
حکومت کے مطابق یہ نیا طریقہ کار فوری طور پر نافذ ہوگا اور آنے والے دنوں میں اس کے عملی نتائج سامنے آئیں گے۔









