
سابق بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کے والدین نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں ان کے بچپن اور کھیلوں کے سفر سے جڑی یادوں اور مشکلات پر روشنی ڈالی ہے، جن کا سامنا انہیں ابتدائی دور میں کرنا پڑا۔
پوڈکاسٹ میں عمران مرزا اور نسیما مرزا نے بتایا کہ ثانیہ کو کم عمری ہی سے ٹینس میں گہری دلچسپی تھی۔ امریکہ میں قیام کے دوران وہ اپنے کزنز کو کھیلتے دیکھ کر خود بھی کورٹ میں جانے کی خواہش کرتی تھیں اور نہ کھیلنے پر اکثر جذباتی ہو جاتی تھیں۔
ان کے مطابق بعد میں انہوں نے وعدہ کیا کہ جب وہ بھارت واپس جائیں گے تو اپنی بیٹی کو باقاعدہ طور پر ٹینس کی تربیت ضرور دلوائیں گے، جو آگے چل کر ثانیہ کے شاندار کیریئر کی بنیاد بنا۔
نسیما مرزا نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک موقع پر ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور اسی دوران یہ فیصلہ کیا کہ اگر ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو وہ اسے کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کا پورا موقع دیں گے۔
تاہم اس فیصلے کے آغاز میں خاندان اور قریبی لوگوں کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض رشتہ داروں نے ٹینس جیسے مہنگے کھیل کو لڑکی کے لیے غیر ضروری قرار دیا، جبکہ کچھ نے سماجی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے منفی تبصرے بھی کیے۔
مزید یہ کہ کچھ افراد نے یہاں تک کہا کہ زیادہ دھوپ میں کھیلنے سے ثانیہ کی جلد متاثر ہو سکتی ہے اور اس سے اس کے مستقبل، حتیٰ کہ شادی کے امکانات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
ان تمام رکاوٹوں اور تنقید کے باوجود ثانیہ کے والدین نے اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی جاری رکھی۔ عمران مرزا کے مطابق انہوں نے اپنی بچت اور وسائل تک بیٹی کے خواب پورے کرنے کے لیے استعمال کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج جب ثانیہ مرزا بین الاقوامی سطح پر ایک کامیاب کھلاڑی کے طور پر پہچانی جاتی ہیں تو وہی لوگ جو کبھی تنقید کرتے تھے، اب ان کے ساتھ تعلق کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں اور تصاویر بنوانا چاہتے ہیں۔









