تھائیرائیڈ: صرف وزن کا مسئلہ نہیں، جسم کے کئی نظام متاثر ہوتے ہیں

0
80
تھائیرائیڈ: صرف وزن کا مسئلہ نہیں، جسم کے کئی نظام متاثر ہوتے ہیں

تھائیرائیڈ گلینڈ عام طور پر وزن بڑھنے یا گھٹنے کے مسئلے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گلینڈ جسم کے کئی اہم نظاموں پر اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر مدافعتی نظام، گردے اور نظامِ ہاضمہ۔
مدافعتی نظام پر اثرات
تھائیرائیڈ ہارمون جسم کے میٹابولزم کو کنٹرول کرتا ہے، جو ہر خلیے کی توانائی کے لیے ضروری ہے۔ ہارمون کی کمی یا زیادتی مدافعتی نظام پر اثر ڈال سکتی ہے، جس سے بار بار انفیکشن، الرجی یا سوجن جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ آٹو امیون بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
گردوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے
تھائیرائیڈ ہارمون گردوں میں خون کی روانی اور فلٹریشن کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ ہائپو تھائیرائیڈزم میں گردوں کی کارکردگی سست ہو سکتی ہے، جس سے جسم میں پانی جمع ہونا، سوجن اور الیکٹرولائٹ عدم توازن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
نظامِ ہاضمہ پر اثرات
تھائیرائیڈ ہارمون آنتوں کی حرکت کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ اس کی کمی قبض، پیٹ بھاری رہنے یا گیس کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ زیادتی دست یا پیٹ خراب ہونے کی شکایت پیدا کر سکتی ہے۔ خراب نظامِ ہاضمہ کی وجہ سے غذائی اجزاء صحیح جذب نہیں ہوتے، جس سے کمزوری، خون کی کمی اور وٹامن کی کمی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو طویل عرصے تک تھکن، وزن میں تبدیلی، ہاضمے کے مسائل یا جسم میں سوجن محسوس ہو تو تھائیرائیڈ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے۔
علاج اور دیکھ بھال
تھائیرائیڈ کا علاج صرف ادویات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ متوازن غذا، مناسب پروٹین، آئیوڈین اور سیلینیم، باقاعدہ ورزش، معیاری نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔
بروقت تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے نہ صرف تھائیرائیڈ کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے بلکہ مدافعتی نظام، گردے اور نظامِ ہاضمہ بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

Leave a reply