بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون کے لیے 10 سالہ معاہدہ

کوالالمپور: بھارت اور امریکا نے دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے دس سالہ فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کی ملاقات کے بعد طے پایا۔
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک دفاعی معلومات کے تبادلے، تکنیکی شراکت داری اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔
امریکی وزیرِ دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، تعاون اور توازن کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تجارتی معاملات میں کشیدگی موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد 50 فیصد ٹیرف اور روس سے تیل و دفاعی سازوسامان کی خریداری پر اضافی جرمانے نے دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر ڈالا ہے۔
بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بھارت اور امریکا کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق، دفاعی شراکت داری دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک مضبوط ستون رہے گی۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی افواج کو مزید قریب لائے گا اور دفاعی صنعتوں میں تکنیکی تعاون کو فروغ دے گا۔
گزشتہ برسوں میں بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ ملاقاتوں میں جدید طیاروں کی فراہمی اور مشترکہ منصوبوں پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق، بھارت اپنے دفاعی شعبے میں تنوع پیدا کرنے اور مقامی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی دفاعی خودمختاری کو مضبوط بنا سکے۔









