بچوں کو کامیاب بنانے والا خود 27 سال تک وطن واپس نہ آ سکا

ہاٹ لائن نیوز: والدین اپنے بچوں کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اپنے آرام کا خیال تک نہیں کرتے۔
ایسی ہی ایک مثال ملائیشیا کے ایک کلینر نے قائم کی ہے جس نے اپنے بچوں کو زندگی میں کامیاب کرنے کے لیے ایک دن کی بھی چھٹی لیے بغیر 27 سال تک کلینر کے طور پر کام کیا۔
70 سالہ ابو بکر کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور وہ 31 سال قبل کام کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑ کر ملائیشیا آئے تھے۔
مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ابوبکر نے کہا کہ انہوں نے ملائشیا میں ملازمت کے مواقع کے بارے میں سنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہر وہ کام کرنے کو تیار ہیں جس سے دوسرے لوگ ہچکچاتے ہیں۔ ملائیشیا پہنچنے کے بعد، اس نے برسوں تک ہفتے میں 7 دن کام کیا اور کبھی ایک دن کی چھٹی نہیں کی۔
وہ بچوں کی تعلیم اور خاندان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی زیادہ تر آمدنی بنگلہ دیش بھیجتا رہا۔ ابوبکر کی تنخواہ کا انکشاف نہیں کیا گیا لیکن مقامی میڈیا کے مطابق ملائیشیا میں صفائی کرنے والے کی اوسط ماہانہ تنخواہ 400 ڈالر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب سے میں یہاں آیا ہوں واپس بنگلہ دیش نہیں جا سکا، مجھے اپنے خاندان کی یاد آتی ہے اور وہ بھی مجھے یاد کرتے ہیں لیکن میں وہ سب کچھ کرتا ہوں جو میرے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ‘
ان کی بیٹی اب جج بن چکی ہے، جبکہ ایک بیٹا ڈاکٹر اور دوسرا انجینئر بن چکا ہے۔ ابوبکر کے مطابق ‘میں اپنے بچوں کی کامیابیوں کے لیے ان کا شکر گزار ہوں’۔









