ایٹمی پروگرام کے بدلے 20 ارب ڈالر کی ممکنہ ڈیل زیرِ غور

0
19
ایٹمی پروگرام کے بدلے 20 ارب ڈالر کی ممکنہ ڈیل زیرِ غور

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم منصوبے پر خفیہ سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ تین صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں بنیادی نکتہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بدلے اس کے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکا اس بات پر غور کر رہا ہے کہ ایران کے تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز بحال کیے جائیں، بشرطیکہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو مکمل طور پر ختم کر دے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے کے مذاکرات جلد متوقع ہیں، جن میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ ان مذاکرات میں ایک تیسرے ملک کی ثالثی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کی ترجیح یہ ہے کہ ایران کو اس کے زیر زمین ایٹمی تنصیبات میں موجود افزودہ یورینیم، خاص طور پر 60 فیصد تک افزودہ مواد، تک رسائی سے روکا جائے۔ دوسری جانب ایران کو اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے فوری مالی وسائل درکار ہیں۔
ابتدائی طور پر امریکا نے انسانی ضروریات جیسے خوراک اور ادویات کے لیے محدود رقم جاری کرنے کی پیشکش کی تھی، جبکہ ایران زیادہ مالی امداد کا خواہاں تھا۔ اب دونوں کے درمیان درمیانی رقم پر بات چیت جاری ہے۔
ایٹمی مواد کے معاملے پر بھی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ ایک تجویز کے مطابق کچھ مواد کسی تیسرے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے، جبکہ باقی مواد کو بین الاقوامی نگرانی میں ایران کے اندر ہی کم شدت یا ضائع کیا جائے گا۔
مزید برآں، ایران سے ایٹمی افزودگی پر طویل مدت کی پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاہم اس معاملے پر بھی دونوں فریقین کے درمیان اتفاق ہونا باقی ہے۔
یہ مذاکرات خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید بات چیت درکار ہوگی۔

Leave a reply