
دنیا میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ توانائی کی کھپت اور انفراسٹرکچر پر دباؤ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے معروف بزنس مین اور ٹیکنالوجی وژنری ایلون مسک ایک غیر روایتی حل پر کام کر رہے ہیں: خلا میں مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا سینٹرز کا قیام۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس اور ان کی اے آئی کمپنی xAI مستقبل میں قریبی تعاون یا ممکنہ انضمام کے ذریعے ایسے سیٹلائٹ نیٹ ورکس بنانے پر غور کر رہی ہیں جو جدید اے آئی ماڈلز اور چیٹ بوٹس کو خلا ہی میں چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
اس تصور کے تحت سینکڑوں شمسی توانائی سے چلنے والے سیٹلائٹس مدار میں تعینات کیے جائیں گے، جو آپس میں منسلک ہو کر بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ انجام دیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر موجود ڈیٹا سینٹرز کو جہاں بھاری بجلی اور مہنگے کولنگ سسٹمز درکار ہوتے ہیں، وہیں خلا میں یہ مسائل نسبتاً کم ہو سکتے ہیں۔
خلا میں سیٹلائٹس کو تقریباً مسلسل سورج کی روشنی دستیاب ہوتی ہے، جس سے توانائی کی فراہمی آسان ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خلا کا قدرتی ماحول درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے کولنگ کے اضافی اخراجات کم ہو سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کو عملی اور منافع بخش شکل دینے میں وقت لگے گا۔ خلائی ملبہ، کاسمک ریڈی ایشن، مرمت کی پیچیدگیاں اور راکٹ لانچ کے اخراجات اس منصوبے کی بڑی رکاوٹیں سمجھی جا رہی ہیں۔
مالیاتی اداروں کے اندازوں کے مطابق 2027 یا 2028 تک ابتدائی تجرباتی ڈیٹا سینٹرز خلا میں بھیجے جا سکتے ہیں، جبکہ مکمل اور بڑے نیٹ ورکس شاید 2030 کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔
اسپیس ایکس پہلے ہی ہزاروں اسٹارلنک سیٹلائٹس خلا میں بھیج چکی ہے، جس کی وجہ سے اسے اس میدان میں نمایاں برتری حاصل ہے۔ حالیہ عالمی فورمز میں ایلون مسک اس خیال کا اظہار کر چکے ہیں کہ آئندہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت کے لیے سب سے کم لاگت والی جگہ خلا ہو سکتا ہے۔
یہ دوڑ صرف ایلون مسک تک محدود نہیں۔ جیف بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن، گوگل، این ویڈیا اور چین سمیت کئی عالمی طاقتیں بھی خلا میں اے آئی انفراسٹرکچر پر کام کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والی دہائی میں خلا مصنوعی ذہانت کے لیے ایک نیا اسٹریٹجک میدان بن سکتا ہے، جہاں ٹیکنالوجی، معیشت اور طاقت کا توازن نئے سرے سے ترتیب پائے گا۔









