اگرپی ٹی آئی کوجلسہ کی اجازت نہیں توپھر؟
لاہور: (ہاٹ لائن نیوز) لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی لاہور میں لبرٹی چوک پر جلسہ کرنے کی اجازت دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔
عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل کو متبادل جگہ پر جلسہ کے لیے دوپہر دو بجے ڈی سی لاہور کو نئی درخواست دینے کا حکم دیدیا ۔
ڈی سی لاہور نے عدالت کو بتایا کہ 9مئی کا واقع لبرٹی چوک سے شروع ہوا تھا لبرٹی میں جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے ، جس پر جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اگر لبرٹی چوک میں جلسہ کی اجازت نہیں پھر کسی سیاست جماعت کو لبرٹی میں جلسہ کی اجازت نہیں ہوگی ، پی ٹی آئی کو متبادل جلسہ کی جگہ سے متعلق 72گھنٹے اجازت دی جائے ، اگر متبادل جگہ پر بھی سکیورٹی خدشات کے باعث پی ٹی آئی کو جلسہ کی اجازت نہیں ہوگی توپھرکوئی دوسری سیاسی جماعت بھی جلسہ نہیں کرے گی ۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ ہم نے آڈر پاس کر دیا ہے ، لبرٹی چوک میں جلسے کی جازت کو رد کر دیا ہے، 9 مئی واقعات کی بنیادپر جلسےکی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں ایسی جگہ پر جلسہ کرنا چاہتا ہوں جو ان کو مناسب لگے، عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ آج 2 بجے ڈی سی کے دفتر جائیں ، لبرٹی میں کوئی دوسری جماعت بھی جلسہ نہیں کر سکتی، آپ کسی دوسری جگہ کے لیے درخواست دے دیں، آپ لوگ پیر تک نئی جگہ کی درخواست کے لیے فیصلہ کریں ۔
درخواست پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری عظیم اللہ خان کی جانب سے دائر کی گی ، درخواست میں ڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت لبرٹی چوک پر 15 اکتوبر کو شام سات بجے جلسہ کرنے کا حکم دےاورعدالت جلسے کے لیے سکیورٹی انتظامات فراہم کرنے کے لیے حکم بھی جاری کرے ۔









