امریکا اور ویٹیکن کے درمیان ایران پالیسی پر کشیدگی، ٹرمپ اور پوپ کے بیانات نے تنازع بڑھا دیا

واشنگٹن / ویٹیکن: امریکا میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہارم کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی اور جنگی بیانات پر اختلافات سامنے آئے ہیں، جنہیں عالمی سطح پر اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ کے خارجہ پالیسی مؤقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں۔ ان کے مطابق پوپ کا نقطۂ نظر “کمزور” ہے اور ایران سے متعلق ان کے بیانات غیر متوازن تاثر دے سکتے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب پوپ لیو چہارم نے ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ جنگی اقدامات پر تشویش ظاہر کی۔ پوپ نے کہا کہ جنگ سے پہلے سخت زبان استعمال کرنا خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے، اس لیے عالمی رہنماؤں کو امن کو ترجیح دینی چاہیے۔
ٹرمپ نے بعد ازاں اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں پوپ کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ویٹیکن کا رویہ سیاسی رنگ اختیار کر رہا ہے اور بعض بیانات ان کے خلاف جانبداری ظاہر کرتے ہیں۔
دوسری جانب ویٹیکن کے ایک سینئر عہدیدار نے پوپ کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوپ کا پیغام سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی بنیادوں پر ہے، جس کا مقصد عالمی امن اور انسانی ہمدردی کو فروغ دینا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے اثرات صرف مذہبی اور سفارتی حلقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ امریکی داخلی سیاست، خصوصاً کیتھولک ووٹرز کے رویے پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح واشنگٹن اور ویٹیکن کے تعلقات میں بھی مزید تناؤ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔








