
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کے تحت بنیادی شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پالیسی ریٹ 10.5 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گیا ہے۔
مرکزی بینک نے اس سے قبل 9 مارچ 2026 کے اجلاس میں شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا تھا، تاہم حالیہ معاشی حالات، عالمی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اس بار پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے۔
ماہرین کی رائے اس فیصلے پر تقسیم رہی۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق شرح سود میں اضافہ ضروری تھا تاکہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور مالیاتی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جانب کچھ حلقوں کا ماننا تھا کہ شرح سود کو برقرار رکھنا بہتر ہوتا تاکہ کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو سہارا ملتا۔
قبل ازیں متعدد ماہرین نے محدود اضافے کی پیشگوئی کی تھی، خاص طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے تناظر میں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق ماہرین کی اکثریت شرح سود میں اضافے کے حق میں تھی۔
معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ قرضوں کی لاگت بڑھنے اور کاروباری سرگرمیوں میں سست روی آنے کا امکان بھی موجود ہے۔









