
آنکھوں میں جلن اور خشکی کی شکایت عام طور پر موبائل یا لیپ ٹاپ کے زیادہ استعمال سے جوڑ دی جاتی ہے، لیکن طبی ماہرین نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ اس کا تعلق صرف اسکرین سے نہیں۔
تحقیق کے مطابق، کئی افراد جو اسکرین پر وقت کم صرف کرتے ہیں، وہ بھی آنکھوں کی سرخی اور چبھن محسوس کر رہے ہیں۔ آنکھوں کی اوپری سطح پر موجود باریک آنسوؤں کی تہہ آنکھ کو صاف اور محفوظ رکھتی ہے۔ جب یہ تہہ مؤثر طریقے سے کام نہ کرے تو آنکھ میں ریت جیسی خارش اور درد پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، جدید طرز زندگی اس قدرتی توازن کو متاثر کر رہا ہے۔ آنکھوں کی خشکی کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں جو اسکرین سے براہِ راست تعلق نہیں رکھتیں:
ایئر کنڈیشننگ اور آلودگی
کمروں میں اے سی، ہیٹر یا خشک ہوا کے نظام آنکھوں کے نمی کے توازن کو خراب کرتے ہیں۔ شہروں کی آلودگی اور دھول مٹی بھی آنکھوں کی حفاظتی تہہ پر اثر ڈالتی ہے۔
پلکیں جھپکانے میں کمی
کتاب پڑھتے، سلائی کرتے یا طویل ڈرائیونگ کے دوران توجہ کی وجہ سے پلکیں کم جھپکتی ہیں، جس سے آنکھوں کی نمی کم ہو جاتی ہے۔
الرجی
پولن، پالتو جانوروں کے بال یا گھر کی مٹی کی وجہ سے آنکھوں میں خارش اور تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔
پانی کی کمی اور نیند کا فقدان
جسم میں پانی کی کمی آنسوؤں کی مقدار کو کم کر دیتی ہے، اور نیند پوری نہ ہونے سے آنکھوں کی تیل پیدا کرنے والی غدود متاثر ہوتی ہیں۔
غذائی کمی
وٹامن اے، ڈی اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی کمی بھی آنکھوں کی صحت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
ڈاکٹر اپاسنا کھنہ، سینئر کنسلٹنٹ ایشیئن اسپتال، کہتی ہیں کہ صرف اسکرین ہی وجہ نہیں ہے۔ خشک موسم، دھول، کم پلکیں جھپکانا اور نظر کی کمزوری بھی آنکھوں میں خشکی کا سبب بن سکتے ہیں۔
آنکھوں کو خشکی سے بچانے کے آسان طریقے:
پانی کی مناسب مقدار پئیں۔
مطالعہ یا ڈرائیونگ کے دوران آنکھیں بند کریں یا بار بار جھپکائیں۔
اے سی والے کمروں میں ہوا کی نمی برقرار رکھیں۔
اگر جلن برقرار رہے تو ماہرِ چشم سے مشورہ کریں تاکہ کسی دائمی مسئلے یا نظر کی کمزوری کا پتہ لگایا جا سکے۔








