آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی بحری ٹریفک تقریباً مفلوج

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث سمندری نقل و حرکت شدید متاثر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جہاز مختلف مقامات پر رکے ہوئے ہیں اور عالمی تجارت میں تعطل پیدا ہو رہا ہے۔
ایک بین الاقوامی میری ٹائم انٹیلی جنس ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنگ کے تیسرے ہفتے میں بھی اس اہم بحری گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت معمول پر نہیں آ سکی۔ اس صورتحال نے خاص طور پر تیل کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیج عرب میں اس وقت تقریباً 686 جہاز موجود ہیں، جن میں سے لگ بھگ 400 جہاز خلیج عمان میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کئی جہاز مالکان متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے کے بجائے آبنائے ہرمز کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اضافی اخراجات اور وقت کے ضیاع سے بچا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق 15 مارچ سے 22 مارچ کے دوران صرف 16 جہاز ایسے تھے جنہوں نے اپنے خودکار شناختی نظام (AIS) کو فعال رکھتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عبور کیا، جو کہ معمول کے مقابلے میں انتہائی کم تعداد ہے۔ عام حالات میں روزانہ درجنوں جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کم از کم آٹھ بڑے جہاز، جن کی لمبائی 290 میٹر سے زائد ہے، بغیر AIS کے سفر کرتے دیکھے گئے۔ ایسے جہازوں کو عموماً “ڈارک شپ” کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان میں ایک ایسا جہاز بھی شامل تھا جس پر امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیاں عائد ہیں۔ یہ جہاز 16 مارچ کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خور فکان کے قریب دیکھا گیا، جس کے بعد اس نے اپنا شناختی نظام بند کر دیا۔ خور فکان تیل بردار جہازوں کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس واقعے نے مزید خدشات کو جنم دیا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی تیل سپلائی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مجموعی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ فی الحال حالات غیر یقینی ہیں اور جہاز مالکان سمیت عالمی منڈیاں محتاط انداز میں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں۔









