
ہاٹ لائن نیوز : سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہررضابخاری نے کہا کہ دنیاء کے تمام مذاہب اَمن اور محبت کے امین ہیں، باباگورونانک نے رواداری اور انسان دوستی کو عام کیا، انہوں نے بابا گورونانک کی آخری آرام گاہ گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور کا دورہ کیا۔
انہوں نے گوردوارے کے باغیچے میں بابا گورونانک کے زیر استعمال رہنے والے کنوویں ” سری کُھوہ صاحب”اور آرٹ گیلری کا بھی معائنہ کیا، جو بابا گورنانک کے افکار و نظریات سے آراستہ فن ِ خطاطی کے شہ پاروں سے خصوصی طور پر آراستہ ہے۔
سیکرٹری اوقاف نے کہا کہ آئین پاکستان تمام اقلیتوں کے حقوق کا ضامن، بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ، وقت کی ضرورت ہے، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے موجودہ حکومت کے اقدامات لائق تحسین، اسلام میں کسی بھی مذہب کی بے حرمتی کی کوئی گنجائش نہیں۔ تمام کتب سماویہ کا احترام لازم، انبیاء کی تکریم ایمان کا حصّہ، تمام مذاہب کی عبادت گاہیں معتبر اور ان کی حفاظت لازم ہے۔
عصرِ حاضر میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے تمام ادیان ِ عالم کو مشترکہ جدوجہد کرنے کی ضرور ت ہے۔ رواداری، انسان دوستی، اخوت اور بھائی چارے کے ذریعے ہی موجودہ سوسائٹی کو جنت نظیر بنایا جاسکتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے ” میثاقِ مدینہ” کے ذریعے مختلف مذاہب کو باہم یکجا کر کے ایک ہی خطّے میں مل کر رہنے کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔ پاکستان میں تمام مذاہب کو مذہبی آزادی میسر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان غیر مسلم شہریوں کے حقوق کی پاسبان ہے۔ قائد اعظم کے فرمودات اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ بین المذاہب مکالمے کی ترویج کے لیے مستقل ادارے کی ضرورت ہے،جس کے لیے ضروری اقدامات ہو رہے ہیں۔ پُراَمن بقائے باہمی کے اصول کو اپنائے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔ نسل نو کو مذہبی منافرت سے بچانےکیلیے اکابرین و عمائدین کومتوجہ ہوناچاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی سطح پر، ” سنٹر آف ایکسیلنس برائے ریلجیئس ہارمنی”تشکیل دینے کا عمل جاری ہے۔بین المذاہب مکالمہ اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ترویج، تدریس، تحقیق اور مستقل تقریبات کا اہتمام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صوفیاء کے اسلوبِ زیست اور تصوف و روحانیت کے ابلاغ کے بغیر تشدّد و نفرت کا خاتمہ اور رواداری اور انسانی دوستی کا فروغ ممکن نہیں۔









