“آج بھی یاد آتا ہے سقوطِ ڈھاکہ کا وہ غمگین منظر”

0
140
“آج بھی یاد آتا ہے سقوطِ ڈھاکہ کا وہ غمگین منظر”

آج 16 دسمبر 2025 کو 1971 کے سقوطِ ڈھاکہ کے واقعے کو 54 سال مکمل ہو گئے ہیں، جب پاکستان کا مشرقی حصہ علیحدہ ہو کر بنگلا دیش بن گیا۔ یہ واقعہ قیامِ پاکستان کے بعد کا سب سے بڑا قومی سانحہ تھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی، معاشی اور لسانی اختلافات پیدا ہوئے۔ مشرقی پاکستان کی آبادی ملک کی نصف سے زیادہ تھی، مگر وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سیاسی نمائندگی کے مسائل نے اختلافات کو بڑھا دیا۔ زبان، وسائل اور اقتدار کی تقسیم کے مسائل نے عوام میں محرومی کا احساس پیدا کیا۔

1966 میں شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان کے لیے ‘چھ نکات’ پیش کیے، جن میں صوبائی خودمختاری، الگ کرنسی، ٹیکس اور تجارتی اختیارات شامل تھے۔ مغربی قیادت نے انہیں ملک توڑنے کی سازش قرار دیا، اور سیاسی اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے۔

7 دسمبر 1970 کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی، مگر وزیراعظم کی تقرری اور آئینی مسائل پر اختلافات بحران کا سبب بنے۔ مارچ 1971 میں حکومت اور مشرقی قیادت کے مذاکرات ناکام رہے، جس کے بعد فوجی آپریشن شروع ہوا اور خانہ جنگی نے جنم لیا۔

آخرکار 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان مکمل علیحدہ ہو گیا اور بنگلا دیش کے قیام کا اعلان ہوا، جو آج بھی پاکستان کے لیے ایک گہرا اور تکلیف دہ زخم ہے۔

Leave a reply