کیا ہم اگلی آفت کے لیے تیار ہیں؟

کیا ہم اگلی آفت کے لیے تیار ہیں؟

تحریر:محمد رشید

پاکستان ایک بار پھر سیلابی خطرات کی لپیٹ میں ہے۔ آسمان سے برستی موسلا دھار بارشیں، پہاڑوں سے اترتے طوفانی ریلے، اور دریا جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید بپھر رہے ہیں، لاکھوں لوگوں کے لیے خوف کی علامت بن چکے ہیں۔ ہر بارش صرف موسم نہیں لاتی، بلکہ ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک نئی آزمائش بھی لے آتی ہے۔

پانی کی تباہ کن یلغار

جون سے ستمبر تک جاری رہنے والا مون سون پاکستان کے لیے زندگی بھی لاتا ہے اور تباہی بھی۔ جب بارش معمول سے کئی گنا زیادہ ہو جائے تو چھوٹے ندی نالے بھی خطرناک سیلابی ریلوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ سڑکیں دریا بن جاتی ہیں، پل ٹوٹ جاتے ہیں، بجلی کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے اور پورے کے پورے گاؤں پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔

ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے صرف امداد کے منتظر ہوتے ہیں، جبکہ چاروں طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔

ہر سال کیوں آتی ہے یہ تباہی؟

پاکستان میں سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں بلکہ کئی انسانی عوامل بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔

– موسمیاتی تبدیلی کے باعث غیر معمولی بارشیں۔
– جنگلات کی بے دریغ کٹائی۔
– دریاؤں اور ندی نالوں پر غیر قانونی تجاوزات۔
– ناقص نکاسی آب کا نظام۔
– شہری منصوبہ بندی میں خامیاں۔
– ڈیموں اور آبی ذخائر کی محدود گنجائش۔

یہ تمام عوامل مل کر بارش کو ایک خطرناک آفت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

متاثرہ علاقوں کی دردناک تصویر

پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقے اکثر شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں۔ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے، جبکہ ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔

کھیتوں میں تیار فصلیں پانی میں بہہ جاتی ہیں، مویشی ہلاک ہو جاتے ہیں، اسکول بند ہو جاتے ہیں اور اسپتالوں تک پہنچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ کئی خاندان صرف چند لمحوں میں برسوں کی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔

معیشت پر کاری ضرب

سیلاب صرف گھروں کو نہیں بہاتا بلکہ ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

زرعی پیداوار متاثر ہونے سے خوراک کی قلت اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سڑکوں، پلوں، بجلی کے نظام اور سرکاری املاک کی بحالی پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ صنعت، تجارت اور روزگار کا پہیہ بھی سست پڑ جاتا ہے۔

انسانی المیہ

قدرتی آفات کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں اور صحت کو پہنچتا ہے۔

سیلاب کے بعد صاف پانی کی کمی، وبائی امراض، جلدی بیماریاں، ڈینگی، ملیریا اور دیگر انفیکشنز پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو خوراک، ادویات، صاف پانی اور محفوظ رہائش کی شدید ضرورت پیش آتی ہے۔

بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں جبکہ خواتین، بزرگ اور خصوصی افراد کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کیا صرف حکومت ذمہ دار ہے؟

حکومت، امدادی ادارے اور مقامی انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، لیکن قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے صرف سرکاری اقدامات کافی نہیں ہوتے۔

عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی، جن میں شامل ہیں:

– موسم کی تازہ اطلاعات پر نظر رکھنا۔
– نشیبی علاقوں سے بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہونا۔
– ہنگامی بیگ تیار رکھنا۔
– بچوں اور بزرگوں کو پہلے محفوظ مقام پر منتقل کرنا۔
– بجلی کے کھلے تاروں اور سیلابی پانی سے دور رہنا۔
– امدادی اداروں کی ہدایات پر عمل کرنا۔

مستقبل کا سب سے بڑا خطرہ

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اگر آج مؤثر منصوبہ بندی نہ کی گئی تو مستقبل میں جانی اور مالی نقصانات پہلے سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔

امید ابھی باقی ہے

ہر آزمائش کے بعد پاکستانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کا سہارا بننا جانتی ہے۔ رضاکار، فلاحی ادارے، ریسکیو ٹیمیں اور عام شہری متاثرین کی مدد کے لیے میدان میں آتے ہیں۔ یہی جذبہ پاکستان کی اصل طاقت ہے۔

سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک اجتماعی امتحان ہے۔ اگر حکومت، ادارے، ماہرین اور عوام مل کر ماحول کے تحفظ، بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر آفات سے نمٹنے کے نظام پر توجہ دیں تو مستقبل میں اس تباہی کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہ پانی کی ہر لہر ایک سوال چھوڑ جاتی ہے: کیا ہم اگلے سیلاب کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہوں گے، یا پھر ایک بار پھر تباہی کی وہی داستان دہرائی جائے گی؟

Leave a reply