پاکستان کے سیاسی حالات: پیچیدگی اور راستۂ حل

پاکستان کے سیاسی حالات: پیچیدگی اور راستۂ حل

تحریر:مظہر حیات

ملک کے سیاسی حالات حالیہ دہائیوں میں حد درجہ پیچیدہ اور ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ عوام ہر روز سیاسی انتشار، غیر یقینی صورتحال اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی خبریں سنتے ہیں، مگر عملی حل کی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ ملکی سیاست میں ذاتی مفادات اور جماعتی تحفظات اکثر قومی مفاد پر حاوی نظر آتے ہیں، جس سے اعتماد کا فقدان بڑھتا ہے۔
سوشل میڈیا کے عروج نے خبروں اور معلومات کے روایتی ذرائع کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ لوگ اب سرکاری بیانیے سے زیادہ اپنی فلاح اور تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف معلومات کے بہاؤ کو تیز کرتا ہے بلکہ سیاسی تاثرات اور رائے سازی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بلوچستان جیسے حساس علاقوں میں حالات مزید پیچیدہ ہیں۔ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہیں، مگر سول انتظامیہ کی کمزوری اور مقامی حمایت یافتہ عناصر کی موجودگی خطرات کو بڑھاتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف فوجی آپریشنز کافی نہیں، بلکہ مضبوط سول ادارے اور مقامی انتظامیہ کی فعال شمولیت ضروری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کے پی کے میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لیکن سیاسی استحکام کے فقدان نے ملکی منظرنامے کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی ذاتی ضد، محدود نقطہ نظر، اور مفاہمت کی کمی صورتحال کو پیچیدہ کر رہی ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف ان کی جماعتوں پر بلکہ قومی سطح پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہمارے سیاسی نظام میں ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ ہر منتخب حکومت نے کسی نہ کسی حد تک اس کی حمایت یا تعاون پر انحصار کیا ہے۔ تاہم، موجودہ سیاسی رہنما اکثر عوامی سطح پر مستحکم نہیں، اور سیاسی تجربے کی کمی ملکی پالیسی سازی اور عالمی تعلقات پر اثر ڈالتی ہے۔
اقتصادی اور سیاسی پالیسیوں کی ناکامی نے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔ ملکی بدحالی کا فائدہ بعض طاقتور گروہ اٹھاتے ہیں، جبکہ عام شہری اور نوجوان نسل مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔
حل کی تلاش کے لیے صرف فوجی یا سیاسی اقدامات کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ تمام فریق شفاف مذاکرات، مضبوط اداروں کی تعمیر اور قومی مفاد کو فوقیت دینے کی کوشش کریں۔ سیاست میں مفاہمت، جوابدہی اور عوامی اعتماد کی بحالی ہی ملک کو استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
آنے والے وقت میں سیاسی شطرنج کی اگلی چال کیا ہوگی، یہ کہنا مشکل ہے، لیکن واضح ہے کہ اگر تمام فریق مل کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں تو حالات بہتر بن سکتے ہیں۔ بصیرت، سنجیدگی اور اخلاقی قیادت ہی ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کی کلید ہیں۔

Leave a reply