پانی، قومی سلامتی اور سندھ طاس معاہدہ

پانی، قومی سلامتی اور سندھ طاس معاہدہ

تحریر:خلیل احمد

پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام، زرعی بقا اور عوام کی روزمرہ زندگی کی بنیاد ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار پانی کی دستیابی اور اس کے بروقت و منصفانہ استعمال پر ہے۔ ایسے میں اگر پانی کو سیاسی دباؤ یا جارحانہ حکمتِ عملی کے تحت ہتھیار بنایا جائے تو اس کے اثرات صرف فصلوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرتی اور اقتصادی ڈھانچہ ہل کر رہ جاتا ہے۔
دریائے چناب میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور پاکستان کی تشویش
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک اور غیر معمولی تبدیلیوں پر شدید تشویش کا اظہار بالکل بجا ہے۔ رواں سال دو مختلف ادوار—13 اپریل سے 21 مئی اور 7 دسمبر سے 15 دسمبر—کے دوران دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں غیر متوقع ردوبدل ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تبدیلیاں قدرتی عوامل سے زیادہ انسانی مداخلت اور منظم پالیسی کی نشاندہی کرتی ہیں، جو سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔
یہ صورتحال پاکستان کے کسانوں میں بے چینی، زرعی منصوبہ بندی میں خلل اور خوراک کی پیداوار پر منفی اثرات کا سبب بن رہی ہے۔ پانی کی قلت یا اچانک زیادتی دونوں ہی صورتوں میں فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست قومی معیشت پر پڑتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ: ایک بین الاقوامی ضمانت یافتہ فریم ورک
1960ء میں عالمی بینک کی ضمانت کے ساتھ طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کا ایک مستند، قابلِ عمل اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت مغربی دریا—سندھ، جہلم اور چناب—پاکستان کیلئے مخصوص ہیں، جبکہ بھارت کو مشرقی دریاؤں پر محدود حقِ استعمال دیا گیا ہے۔
یہ معاہدہ محض ایک تکنیکی دستاویز نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں امن، اعتماد اور بقا کی علامت ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران پاکستان نے نہ صرف اس معاہدے کی مکمل پاسداری کی بلکہ ہر عالمی فورم پر اس کے تقدس کا دفاع بھی کیا۔ اس کے برعکس بھارت کی جانب سے بارہا ایسے اقدامات سامنے آئے ہیں جو معاہدے کی روح اور بنیادی اصولوں کو کمزور کرتے ہیں۔
پانی کو ہتھیار بنانے کی پالیسی اور اس کے خطرناک نتائج
کشن گنگا اور رتلے جیسے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن میں تکنیکی شرائط کی خلاف ورزی، غیر قانونی ڈھانچوں کی تعمیر اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں غیر معمولی تبدیلیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پانی کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں سیلاب، خشک سالی، غذائی قلت اور ماحولیاتی عدم توازن جیسے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
مزید برآں، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے تحت لازم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی اور مشترکہ نگرانی کے عمل کی معطلی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے باعث پاکستان کو نہ صرف پانی کے بہاؤ سے متعلق پیشگی معلومات حاصل نہیں ہو پاتیں بلکہ قومی سطح پر آبی منصوبہ بندی اور وسائل کے مؤثر استعمال میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انسانی حقوق، غذائی سلامتی اور عالمی ذمہ داری
پانی کے وسائل پر غیر قانونی کنٹرول انسانی حقوق، غذائی سلامتی اور معاشی استحکام کیلئے براہِ راست خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار اور مختلف مینڈیٹ ہولڈرز کی جانب سے بھارتی اقدامات پر قانونی اور انسانی خدشات کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے تحفظات محض دوطرفہ یا داخلی نوعیت کے نہیں بلکہ عالمی اہمیت رکھتے ہیں۔
اسحاق ڈار کی جانب سے عالمی برادری کو یہ انتباہ بالکل درست ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع نہیں بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی حرمت اور عالمی نظامِ اعتماد کیلئے ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔
امن کی خواہش، مگر حقِ آب پر کوئی سمجھوتہ نہیں
پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور خطے میں استحکام کا خواہاں ہے، مگر امن کی خواہش کو قومی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے بنیادی حقِ آب پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بھارت نے اپنی آبی جارحیت اور یکطرفہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا تو یہ خطہ ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں ہوں گے۔
سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں بقا اور پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ اس معاہدے سے چھیڑ چھاڑ دراصل پورے عالمی آبی نظام اور بین الاقوامی اعتماد کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
نتیجہ: عالمی برادری کا کردار ناگزیر
اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ اگر آج بین الاقوامی آبی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کیا گیا تو کل دنیا کے دیگر خطوں میں بھی پانی تنازعات کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان اپنے حقِ آب، خودمختاری اور علاقائی امن کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا۔
پانی زندگی ہے، اور زندگی پر کسی بھی قسم کی اجارہ داری یا جارحیت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کی روح کو زندہ رکھنا، شفافیت کو یقینی بنانا اور خطے میں امن کو مضبوط کرنا تمام فریقین کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔

Leave a reply