مزاحمت یا صرف نعرے؟

پاکستان کی سیاسی محفل میں اب ایک نیا دور شروع ہوا ہے، جہاں مفاہمت کے جملے ختم ہو گئے اور مزاحمت کے نعروں کی بازگشت ہر کونے میں سنائی دے رہی ہے۔ ڈیڑھ جماعتی اتحاد نے اعلان کر دیا کہ مذاکرات کیے جائیں گے، مگر اب پالیسی مفاہمت کی نہیں، بلکہ مزاحمت کی ہوگی۔ مگر سوال یہ ہے کہ مزاحمت کے عملی طریقے کیا ہوں گے؟
ایک پرانا لطیفہ اس صورتحال کی خوب عکاسی کرتا ہے: دو افراد لڑ پڑے، ایک نے دھمکی دی کہ “میں اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا”، تو دوسرا چیلنج کرتا ہے۔ پہلے نے سڑک کنارے پڑی دو اینٹیں اٹھائیں اور انہیں بجا کر دکھایا۔ نتیجہ یہ کہ دھمکی تو دی، مزاحمت کی عملی شکل کچھ اور تھی۔ یہی حال سیاسی مزاحمت کا بھی ہے، اعلان سب نے کر لیا، مگر عملی خاکہ ابھی تک کسی نے نہیں بنایا۔
ڈیڑھ جماعتی اتحاد کے قومی کنونشن میں شرکت کرنے والے سیاسی حلقوں کی تعداد بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی نے شرکت کی، صحافی، وڈیوبلاگرز اور وکیل بھی آئے، مگر اتحاد کی تعداد اور تنظیم کی پیچیدگی نے ماہرین ریاضیات کی طرح سب کو الجھا دیا۔ تین، چار، پانچ جماعتیں جمع کر کے بھی اصل میں “ڈیڑھ جماعت” ہی بنتی ہیں۔ یہ سیاسی گنتی اور جماعتوں کی ترکیب کبھی کبھی ہنسی بھی دلاتی ہے، کبھی حیرت میں ڈالتی ہے۔
مزاحمت کے طریقے بھی دلچسپ ہیں۔ جاوید ہاشمی صاحب کے مطابق جیلیں بھریں، گرفتاریاں پیش کریں، اسی سے تحریک کامیاب ہوگی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کون جیل جائے گا؟ زیادہ تر وہ لوگ جو گرفتاریاں دینے کے لیے تیار ہوں، پہلے ہی پنجاب سے فرار ہو کر کے پی میں پناہ لے چکے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض افراد شناخت چھپانے کے لیے زنانہ بھیس اختیار کرتے ہیں یا مکمل سنگھار کر کے بازار میں نکلتے ہیں۔ اس کے باوجود، جیلیں بھرنا ایک دلچسپ مگر عملی طور پر پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔
کانفرنس میں اسلام آباد جلوس نکالنے کا منصوبہ بھی مستقل طور پر “داخل دفتر” کر دیا گیا کیونکہ شرکاء کی تعداد کم تھی اور پولیس کے ردعمل شدید۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ریاضی کے اصول یہاں بھی لاگو ہوتے ہیں: زیادہ لوگ تو زیادہ مارو، کم لوگ تو کم مارو۔ مگر سیاست میں اصل حساب کتاب عوامی شرکت اور حکومتی رویے کے درمیان الجھا ہوا ہے۔
معاشی منظرنامہ بھی کم دلچسپ نہیں۔ حکومت نے کرشنگ کے موسم میں 78 ہزار میٹرک ٹن چینی امپورٹ کر لی۔ ملوں سے نکلنے والے سرپلس کی وجہ سے چینی پھر برآمد کی جائے گی، نتیجتاً ملک میں کمی ہوگی اور قیمتیں بڑھیں گی۔ اس “سمارٹ ترقیاتی پہیے” کی مثال کچھ یوں ہے: پیداوار بڑھاؤ، برآمد کرو، پھر کمی پیدا کرو تاکہ قیمتیں بڑھیں، اور عوام کے لیے یہ کھیل جاری رہے۔
بین الاقوامی میدان میں بھی صورتحال نازک ہے۔ بنگلہ دیش میں بھارت سے نفرت کا سونامی اب کھلے عام محسوس کیا جا رہا ہے۔ شمال مشرقی بھارت میں علیحدگی کے خطرات واقعی حقیقت کا روپ اختیار کر چکے ہیں۔ بھارتی رہنما جب بنگلہ دیش کے نقشے پر نظر ڈالتے ہیں تو پاکستان اور چین کا نقشہ بھی ان کی نظروں میں آ جاتا ہے، اور یہ صورتحال بھارت کے لیے سنگین تشویش پیدا کر رہی ہے۔ ماضی میں یہ خطرہ محض شائبہ تھا، اب حقیقت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
آخر میں، واضح بات یہ ہے کہ بات بڑھ چکی ہے۔ چاہے وہ سیاسی مزاحمت ہو، معاشی پالیسی ہو یا بین الاقوامی تعلقات، اعلان کافی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوام، سیاسی جماعتیں اور حکومت سب کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ وقت کم ہے اور صورتحال حساس ہے۔ اب صرف باتیں کرنے کا مرحلہ ختم ہو چکا، عمل کا وقت ہے۔









