قانون کی بالادستی کی طرف ایک قدم

کرائم ڈائری عموماً خوف، خون اور بے یقینی کی داستانوں سے بھری ہوتی ہے، مگر تاریخ کے بعض ادوار ایسے بھی ہوتے ہیں جب یہی ڈائری امید، نظم اور قانون کی عملداری کی گواہ بن جاتی ہے۔ پنجاب اس وقت ایک ایسے ہی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں جرائم کے خلاف ریاستی رٹ مضبوط اور عوام کا اعتماد بحال ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
پنجاب آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اسی تناسب سے یہاں جرائم کے چیلنجز بھی پیچیدہ رہے ہیں۔ اغوا برائے تاوان، منشیات فروشی، لینڈ مافیا، ڈالہ کلچر اور منظم جرائم پیشہ گروہوں نے طویل عرصے تک قانون کی عملداری کو چیلنج کیے رکھا۔ عام شہری کے لیے تھانے کا دروازہ کھٹکھٹانا ایک مشکل مرحلہ بن چکا تھا اور انصاف ایک دور کا خواب محسوس ہوتا تھا۔
تاہم حالات میں واضح تبدیلی اس وقت نظر آئی جب انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ذمہ داری سنبھالی۔ ان کی قیادت میں پولیسنگ کے روایتی انداز سے ہٹ کر نظم و ضبط، میرٹ اور فیلڈ ایکشن کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ یہ پیغام دو ٹوک انداز میں دیا گیا کہ وردی طاقت کی نہیں بلکہ خدمت اور جوابدہی کی علامت ہے۔
جرائم کے خاتمے کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو مؤثر انداز میں فعال کیا گیا۔ جدید حکمت عملی، پیشہ ورانہ قیادت اور ٹارگٹڈ آپریشنز کے ذریعے خطرناک گینگز، شوٹرز اور منشیات فروشوں کے نیٹ ورک توڑے گئے۔ وہ عناصر جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے تھے، آج یا تو قانون کی گرفت میں ہیں یا اپنی سرگرمیاں ترک کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ڈالہ کلچر، جو کبھی شہری اور دیہی علاقوں میں خوف کی علامت تھا، اب بتدریج دم توڑتا دکھائی دیتا ہے۔ غیرقانونی اسلحے، ناجائز اثر و رسوخ اور سیاسی سرپرستی کے سہارے پنپنے والے کرداروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی گئی۔ پولیس کو فری ہینڈ ضرور دیا گیا، مگر اس کے ساتھ سخت احتسابی نظام بھی نافذ کیا گیا تاکہ طاقت کا غلط استعمال نہ ہو۔
امن و امان کی بہتری پر وزیر اعلیٰ پنجاب کا آئی جی پولیس پر اعتماد بھی ایک اہم اشارہ ہے۔ صوبائی حکومت اور پولیس قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے اصلاحات کے عمل کو تقویت دی، جس کے مثبت اثرات سٹریٹ کرائم میں کمی، منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن اور خواتین و بچوں کے تحفظ کے اقدامات کی صورت میں سامنے آئے۔
پولیس تھانوں کا ماحول بھی بدلتا نظر آ رہا ہے۔ سائل کی شنوائی، فوری رسپانس اور شکایات پر بروقت کارروائی نے پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام خود کو پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت کا ایک اہم پہلو پولیس فورس کی ویلفیئر بھی ہے۔ اہلکاروں کی عزتِ نفس، فلاح و بہبود اور بروقت ترقیوں پر توجہ نے فورس کا مورال بلند کیا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ کارکردگی کی بہتری کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو پنجاب نہ صرف جرائم پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ پولیسنگ کا ایک ایسا ماڈل بھی پیش کر سکتا ہے جو دیگر صوبوں کے لیے مثال بنے۔ یہ حقیقت اب کرائم ڈائری کے اوراق پر درج ہو رہی ہے کہ مضبوط قیادت، واضح نیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ یہی کسی بھی مہذب اور محفوظ معاشرے کی اصل پہچان ہوتی ہے۔









