غزہ: انسانی المیے کے بعد امن کے نئے امکانات

غزہ: انسانی المیے کے بعد امن کے نئے امکانات

تحریر:محمد رشید

غزہ گزشتہ سال کے دوران انسانی المیے کی بھٹی میں جلتا رہا، جہاں ہزاروں بے گناہ شہری، خاص طور پر معصوم بچے، جان سے گئے اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہو گئے۔ عالمی برادری نے اس دوران خاموشی اختیار کی، لیکن اب، غزہ کے بڑے پیمانے پر تباہ ہونے کے بعد، عالمی قوتیں امن کے لیے اقدامات کی آڑ میں سیاسی کریڈٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
امریکی صدر کی قیادت میں غزہ بورڈ آف پیس کے قیام کا اعلان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس بورڈ میں ایک مرکزی انتظامی بورڈ، فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی، اور ایک مشاورتی ایگزیکٹو بورڈ شامل ہیں، جس میں امریکہ، برطانیہ اور عالمی مالیاتی اداروں کے بااثر شخصیات شامل ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد غزہ کی بحالی، سرمایہ کاری کی ترغیب، اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک حساس مگر تاریخی موقع ہے۔ امریکی صدر نے وزیراعظم کو بھی بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، جسے ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ فوری اور مستقل جنگ بندی ہونی چاہیے اور فلسطینی عوام کو 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد ریاست دی جانی چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس ہو۔ پاکستان کی شمولیت اس بات کی ضمانت ہے کہ عالمی اقدامات میں فلسطینی عوام کے حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔
تاہم غزہ بورڈ آف پیس پر حماس اور اسرائیل دونوں جانب سے تحفظات ہیں۔ اسرائیل نے اس بورڈ کو اپنی پالیسی کے خلاف قرار دیا، جبکہ فلسطینی اسلامی جہاد نے اسے ایک یکطرفہ اقدام قرار دیا۔ یہ واضح کرتا ہے کہ زمین پر موجود حقیقی فریقین کی رائے کے بغیر کوئی حل پائیدار نہیں ہو سکتا۔
اس وقت سب سے اہم ضرورت انسانی ہمدردی کی ہے۔ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں، شدید سردی، بارش اور خوراک کی قلت نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ متاثرین کو فوری طبی امداد، خوراک اور پناہ گاہیں فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کی موجودگی اس بورڈ میں اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ تعمیرِ نو کے عمل میں انسانی حقوق، انصاف اور فلسطینی عوام کے مفادات کو ترجیح دی جائے۔ پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب قبضے کا خاتمہ ہو اور فلسطینی عوام کو ان کے حقوق بحال ہوں۔
غزہ میں جاری انسانی المیے کی تاریخ سیاہ حروف میں درج کی جائے گی۔ عالمی برادری کو اس بحران کے حل کے لیے محض سیاسی کریڈٹ حاصل کرنے کی بجائے انصاف اور انسانی ہمدردی کو ترجیح دینی ہوگی۔ مستقبل میں امن کی ضمانت صرف فلسطینی عوام کی حقیقی آزادی اور ان کے حقوق کی حفاظت میں مضمر

Leave a reply