“جمہوریت کے آئینے میں دراڑ

قیادت کسی قوم کے اخلاقی معیار کا سب سے واضح آئینہ ہوتی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں جہاں عوام منتخب نمائندوں کو اعتماد دیتے ہیں، وہاں توقع کی جاتی ہے کہ وہ ضبط، وقار اور تمام شہریوں کے حقوق کے احترام کی عملی مثال قائم کریں۔ ووٹ صرف اقتدار کی منتقلی کا ذریعہ نہیں، بلکہ عوام کا ایک عہد بھی ہے، جس میں نمائندوں کو عوام کی عزت، آزادی اور ایمان کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔
بھارت، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، آئین، تکثیریت اور قانون کی بالادستی پر فخر کرتا ہے۔ مگر وقتاً فوقتاً ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو اس دعوے میں دراڑ ڈال دیتے ہیں۔ حال ہی میں بہار میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جس نے اس مسئلے کو اجاگر کیا۔ وزیراعلیٰ کے ایک عوامی اجتماع میں ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب زبردستی ہٹایا گیا، ایک ایسا عمل جو نہ صرف ذاتی آزادی بلکہ مذہبی اور جسمانی خودمختاری پر بھی حملہ تھا۔
نقاب ایک فرد کی شناخت اور ایمان کی علامت ہے، اور اس پر حملہ دراصل معاشرتی طاقت کے غلط استعمال کی ایک واضح مثال ہے۔ متاثرہ خاتون نے اپنی زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کی، اور ان کی عزت کو عوامی تماشہ بنایا جانا، ریاست کے اخلاقی دعووں کے لیے شرمناک لمحہ ہے۔
تاریخ اور مذہبی روایت ہمیں بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کا غلط استعمال انسانی اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ ہندو اساطیر میں بھی رامائن کے کردار، جیسے سیتا کے ساتھ راون کے رویّے، ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کسی کی عزت پامال کرنا کبھی طاقت کی نشانی نہیں بلکہ اخلاقی ناکامی ہے۔ موجودہ دور میں جب رہنما ایسے رویے اختیار کرتے ہیں، تو یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ اقتدار اور اختیار کی حدود کو بھول جانا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔
اس واقعے پر عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا، جس میں اسے انسانی حقوق اور خواتین کی عزت پر حملہ قرار دیا گیا۔ یہ حقیقت کہ آئینی ضمانتیں عملی مساوات کی ضمانت نہیں دیتیں، خصوصاً اقلیتوں کے لیے، ایک تلخ سچائی ہے۔ جمہوریت کا معیار صرف بڑے بیانات یا آئینی اصول نہیں، بلکہ ان لوگوں کے روزمرہ رویّوں سے پرکھا جاتا ہے جنکے ہاتھ میں اقتدار ہوتا ہے۔
یہ واقعہ کوئی تنہا مثال نہیں۔ بھارت میں حالیہ دہائیوں میں ایسے متعدد واقعات دیکھے گئے ہیں جہاں ریاستی طاقت کو اقلیتوں کو ہراساں کرنے، خوفزدہ کرنے یا ذلیل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ خواتین، خاص طور پر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی، اس بوجھ کا سب سے زیادہ شکار رہی ہیں۔ ہراسانی اور عوامی تذلیل کے ایسے مظاہرے جمہوری اصولوں کے لیے خطرہ ہیں۔
میڈیا کا ردعمل بھی اہمیت رکھتا ہے۔ جب بعض میڈیا ادارے حقائق کو نمایاں نہیں کرتے یا حکمرانوں کے فائدے کو ترجیح دیتے ہیں، تو یہ معاشرتی اخلاقیات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ قیادت اور اداروں کی ناکامی سے جمہوریت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ طاقت اطاعت تو پیدا کر سکتی ہے، مگر احترام اور اعتماد نہیں۔
بہار کا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اخلاق کے بغیر جمہوریت محض ایک خالی ڈھانچہ ہے، اور احتساب کے بغیر طاقت صرف منظم ظلم بن جاتی ہے۔ اگر قیادت خود کو درست نہ کرے اور معاشرہ ناانصافی پر خاموش رہے، تو جمہوریت کے اصول صرف نعروں تک محدود رہ جائیں گے۔ یہ واقعہ ایک انتباہ ہے کہ قیادت اور اخلاق ساتھ چلیں، تبھی جمہوریت کی حقیقی روح قائم رہ سکتی ہے۔








