توشہ خانہ: طاقت، تحائف اور آزمائش

توشہ خانہ: طاقت، تحائف اور آزمائش

تحریر:محمد رؤف

پاکستان میں توشہ خانہ ہمیشہ سے سیاسی اور اخلاقی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جہاں حکمران بیرون ملک دوروں کے دوران ملنے والے قیمتی تحائف جمع کرواتے ہیں۔ قانونی طور پر یہ تحائف قومی خزانے کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن عملی طور پر کئی حکمران اور وزراء ان سے ذاتی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔

توشہ خانے کے معاملات میں سب سے زیادہ دلچسپی اس بات میں ہے کہ کیسے قیمتی تحائف محض چند ہزار روپے دے کر ذاتی طور پر حاصل کیے جاتے رہے۔ مثال کے طور پر، سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے نو برس کے دوران 1126 تحائف حاصل کیے، جن کی مجموعی مالیت اُس وقت کم از کم 25 کروڑ روپے تھی۔ کئی تحائف کی اصل قیمت کا اندازہ لگانا تو ممکن ہی نہیں کیونکہ کابینہ ڈویژن ان تحائف کے لیے عام دکانداروں سے قیمتیں معلوم کرتا تھا اور حکمران کو محض 10 فیصد دینے کی تجویز دی جاتی تھی۔

جنرل مشرف کے دور میں بھی یہی رویہ جاری رہا، البتہ 2004 کے بعد انہوں نے تحائف کی تفصیلات کابینہ ڈویژن کو رپورٹ نہیں کیں اور اپنے سٹاف کو ہدایات دے دیں کہ تحائف سیدھے آرمی ہاؤس پہنچائے جائیں۔ اس طرح کے نظام نے حکمرانوں کو تحائف کے سلسلے میں مکمل آزادی دے دی، جس کے نتیجے میں تحائف کی قیمت کا درست حساب ممکن نہ رہا۔

توشہ خانے کے معاملات میں عمران خان کا کیس جدید تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو ہے۔ انہیں سعودی شہزادے کی جانب سے مہنگے تحائف ملے، لیکن ان کا قانون کے مطابق اندراج نہ کروانا اور کم قیمت ادا کرکے تحائف رکھنا سیاسی اور قانونی تنازع کا سبب بنا۔ خان نے اپنی تقریروں میں یہ بار بار کہا کہ وہ سابق حکمرانوں سے مختلف ہیں، مگر عملی طور پر انہوں نے بھی وہی روٹ اختیار کیا جو پہلے کے حکمران کرتے آئے۔

یہ معاملہ ہمیں ایک بڑی انسانی حقیقت یاد دلاتا ہے: طاقت اور دولت کی چمک اکثر اخلاقی آزمائش کا سبب بنتی ہے۔ ہر حکمران کے لیے سب سے مشکل مرحلہ یہی ہوتا ہے کہ اس آزمائش میں صحیح فیصلہ کرے—یا تو تحائف اور لالچ کا شکار ہو جائے، یا اصولوں کے ساتھ کھڑا رہے۔

توشہ خانہ کی مثال یہ واضح کرتی ہے کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں ہوتا، بلکہ ان پر عمل درآمد اور شفافیت ہی اصل کلید ہے۔ اور جب یہی قوانین حکمران خود اپنی مرضی سے توڑیں، تو عوامی اعتماد اور عدالتی نظام پر بھی اثر پڑتا ہے۔

پاکستان میں توشہ خانہ ہمیشہ ایک آزمائش رہا ہے: یہ نہ صرف قیمتی تحائف کا ذخیرہ ہے بلکہ طاقت، اصول اور اخلاقی چیلنج کا آئینہ بھی ہے۔

Leave a reply