بلدیاتی نظام: جمہوریت کی نظرانداز شدہ بنیاد

بلدیاتی نظام: جمہوریت کی نظرانداز شدہ بنیاد

تحریر:محمد سلیمان

پاکستان میں جمہوریت کی بات تو بڑے زور و شور سے کی جاتی ہے، مگر اس کی سب سے مضبوط بنیاد یعنی بلدیاتی نظام کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک یہ المیہ رہا ہے کہ مقامی حکومتوں کو نہ تو بااختیار بنایا گیا اور نہ ہی انہیں تسلسل کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ہر دور کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بلدیاتی نظام کو یا تو معطل کیا یا اسے اس حد تک کمزور کر دیا کہ وہ محض نمائشی ادارہ بن کر رہ گیا۔
حالیہ برسوں میں کوئٹہ، اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے التوا نے ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نچلی سطح پر اختیارات منتقل کرنے سے کترا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول دیے جانے کے باوجود صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے انتخابات کو مؤخر کر دیا۔ کہیں قانون سازی کا بہانہ بنایا گیا، کہیں انتظامی مشکلات کا، جبکہ اصل وجہ سیاسی عدم دلچسپی کے سوا کچھ نہیں۔
ملک اس وقت شدید گورننس بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، صحت، تعلیم، صفائی اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی مسائل عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا چکے ہیں۔ ان مسائل کا سب سے مؤثر حل ایک مضبوط بلدیاتی نظام ہو سکتا ہے، کیونکہ مقامی نمائندے ہی عوامی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ مگر اس کے برعکس صوبائی حکومتیں اختیارات بیوروکریسی کے پاس رکھنا زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں، جس کے نتیجے میں فیصلہ سازی عوام سے مزید دور ہو جاتی ہے۔
یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو اپنے اختیارات کیلئے خطرہ سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مقامی حکومتوں کو فعال بنانے کی بات ہوتی ہے تو تاخیری حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جہاں بلدیاتی ادارے موجود بھی ہیں، وہاں ان کے پاس نہ مالی خودمختاری ہے اور نہ انتظامی اختیار۔ نتیجتاً عوام کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔
اسی ناکام طرزِ حکمرانی کے باعث ملک میں نئے صوبوں کی بحث نے جنم لیا ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ جب موجودہ انتظامی ڈھانچہ ان کے مسائل حل نہیں کر پا رہا تو شاید نئے صوبے بہتر متبادل ثابت ہوں۔ مگر بڑی سیاسی جماعتیں اس خیال کی بھی مخالفت کرتی نظر آتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو قیادت نئے صوبوں کی مخالفت کرتی ہے، وہی اپنے زیرِانتظام صوبوں میں مضبوط بلدیاتی نظام قائم کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر کی مثال سامنے ہے جہاں بلدیاتی نمائندے خود اعتراف کرتے ہیں کہ وہ شہری مسائل حل کرنے کے اختیارات نہیں رکھتے۔ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود مقامی ادارے غیر مؤثر ہیں، جبکہ بلوچستان میں گورننس کی کمزوری سب پر عیاں ہے۔ پنجاب میں ترقیاتی دعوے ضرور کیے جاتے ہیں، مگر عام شہری اب بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اور وہ مقامی حکومتوں کے قیام کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
دنیا بھر میں بہتر حکمرانی کیلئے یا تو انتظامی اکائیاں چھوٹی کی جاتی ہیں یا پھر مقامی حکومتوں کو طاقتور بنایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان دونوں راستوں سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اس کا خمیازہ براہِ راست عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ سیاسی قیادت اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرے۔ بروقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اور مقامی اداروں کو مالی و انتظامی خودمختاری دینا گورننس کے بحران کا مؤثر حل ہو سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو بھی محض اعلان تک محدود رہنے کے بجائے آئینی ذمہ داری کے تحت فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔
اگر بلدیاتی نظام کو مزید نظرانداز کیا گیا تو نہ صرف عوامی مسائل میں اضافہ ہوگا بلکہ جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جائے گا

Leave a reply