ایران کی داخلی ہلچل اور پاکستان کی سلامتی

پاکستان ایک ایسے جغرافیائی خطے میں واقع ہے جو عالمی سیاست کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے چار پڑوسی ممالک—بھارت، افغانستان، ایران اور چین—کے ساتھ تعلقات میں جغرافیائی قربت اور تجارتی مواقع موجود ہیں، مگر بدقسمتی سے یہ قدرتی فائدے ہمیشہ اقتصادی خوشحالی میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کا دیرینہ تنازع اور افغانستان میں دہائیوں پر محیط عدم استحکام نے پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کو تجارتی سرگرمیوں کے بجائے سکیورٹی کے چیلنجز کا محور بنا دیا ہے۔
ایسی صورتحال میں ایران کی اقتصادی اہمیت خاص طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ ایران کے ساتھ زمینی تجارتی راستے آسان ہیں اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو بڑھا کر 10 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ تعلق صرف تجارتی فوائد تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ایران پر عالمی پابندیاں کم ہوں تو پاکستان وہاں سے سستا تیل اور گیس حاصل کر کے اپنے بڑھتے ہوئے امپورٹ بل کو کم کر سکتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے بہت ضروری ہے۔
تاہم، تجارت کے لیے امن و استحکام بنیادی شرط ہے۔ ایران میں حالیہ مہنگائی اور معاشی مسائل کے خلاف مظاہروں نے یہ خدشہ پیدا کیا ہے کہ اگر عدم استحکام طویل عرصے تک جاری رہا تو اس کے اثرات پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان کی سابقہ افغان جنگوں سے ملی تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پڑوسی ممالک میں انتشار پاکستان کے معاشی، سماجی اور سکیورٹی محاذ پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران کی موجودہ صورتحال افغانستان سے مختلف ہے کیونکہ وہاں ریاستی نظام مضبوط ہے اور جمہوری تسلسل برقرار ہے، مگر بیرونی قوتوں کی مداخلت یا اندرونی خلفشار کی صورت میں تبدیلی پاکستان کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اسرائیل اور اس کے اتحادی ایران کے خلاف اپنا اثر بڑھا سکتے ہیں، اور اگر وہاں رجیم چینج واقع ہوتی ہے تو نیا انتظام پاکستان کے لیے ایک غیر محفوظ پڑوسی بن سکتا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان دو محاذوں پر لڑنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جو ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرناک ہے۔
ایران میں احتجاج بظاہر مہنگائی کے خلاف ہیں، لیکن کئی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ بیرونی قوتیں اس احتجاج کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ایران کی مذہبی شناخت اور جوہری اثاثے عالمی طاقتوں کے لیے ایک تزویراتی چیلنج ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو محتاط رہنا ضروری ہے۔
پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں دور اندیشی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اگر ایران میں استحکام نہ رہا اور وہاں تبدیلی واقع ہوئی، تو اسرائیل یا دیگر ممالک کی موجودگی پاکستان کے لیے طویل مدتی سکیورٹی رسک بن سکتی ہے۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پاکستان سے بیداری، سمجھداری اور غیر معمولی تزویراتی مہارت کا تقاضا کرتی ہے۔









