اقتدار کی ہوس اور انسانیت کی قیمت

ہر انسان جانتا ہے کہ زندگی فانی ہے۔ یہ وہ سچ ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ نہ بادشاہ اس سے بچ سکا، نہ فقیر۔ پھر سوال یہ ہے کہ صدیوں سے انسان طاقت کے زعم میں مبتلا کیوں ہے؟ کیوں اقتدار، قبضے اور جنگ کو ہی عظمت کا معیار سمجھ لیا گیا ہے؟
تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں افراد نہیں بلکہ ایک خاص ذہنیت نظر آتی ہے۔ چنگیز خان ہو یا ہٹلر، یہ محض نام نہیں بلکہ اس سوچ کی علامت ہیں جو یہ مانتی ہے کہ زمین، انسان اور وسائل پر قبضہ ہی اصل کامیابی ہے۔ اسی سوچ نے جنگوں کو جنم دیا، خون بہایا اور انسان کو انسان کے خلاف کھڑا کیا۔ سوال یہ ہے کہ اس سب کا حاصل کیا ہوا؟ کیا انسان زیادہ محفوظ ہوا؟ کیا دنیا زیادہ منصف بنی؟
آج ہم ایک جدید دور میں جی رہے ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اسلحے میں بے پناہ ترقی ہو چکی ہے، مگر اس ترقی کے باوجود انسان بھوکا ہے، ننگا ہے اور بے گھر ہے۔ اگر اصل لڑائی لڑنی ہے تو وہ بھوک، افلاس اور جہالت کے خلاف کیوں نہیں؟ طاقت کو اس کٹہرے میں کیوں نہ کھڑا کیا جائے کہ اس نے عام انسان کو آخر دیا کیا ہے؟
طاقت ہمیشہ خود کو کسی نہ کسی اخلاقی لبادے میں چھپاتی ہے۔ کبھی قوم پرستی، کبھی مذہب، کبھی تہذیب اور کبھی ترقی کے نام پر۔ مگر جب ان نعروں کو ہٹایا جائے تو نیچے وہی پرانی خواہش دکھائی دیتی ہے: قبضے کی خواہش، منافع کی بھوک اور حکمرانی کا نشہ۔ انسان کی فلاح اس نظام میں غیر ضروری سمجھ لی جاتی ہے، کیونکہ بھلا ہوا انسان سوال کرتا ہے، احتجاج کرتا ہے اور یہی بات طاقتوروں کو ناگوار گزرتی ہے۔
تاریخ اکثر فاتحین نے لکھی ہے۔ ان فاتحین نے انسان کو ایک عدد میں بدل دیا۔ جب انسان عدد بن جائے تو جنگ آسان ہو جاتی ہے، قبضہ جائز لگنے لگتا ہے اور ظلم ایک انتظامی فیصلہ بن جاتا ہے۔ مگر انسانی ضمیر نے ہمیشہ اس عدد کے پیچھے چھپے چہرے کو تلاش کیا ہے۔ یہی ضمیر سوال اٹھاتا ہے کہ اگر سب کو مر جانا ہے تو اقتدار کی یہ ہوس کیوں؟
آج طاقت کا توازن صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ معاہدوں، کارپوریشنز اور مالیاتی نظام سے بنتا ہے۔ قبضہ اب بندوق کے ساتھ ساتھ معاشی پالیسیوں کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ نتیجہ پھر بھی وہی ہے: انسان کی محرومی۔ کسان کی زمین، مزدور کی محنت اور وسائل منڈی میں رکھ دیے جاتے ہیں اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ ترقی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کس کی ترقی؟ اگر ترقی کے باوجود بچے بھوکے سوئیں اور مزدور کی عزت اجرت میں گم ہو جائے تو ایسی ترقی پر سوال اٹھانا لازم ہے۔
اصل لڑائی بھوک اور غربت کے خلاف ہونی چاہیے۔ یہ کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بھوک قدرتی آفت نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ ہے۔ غربت کوئی حادثہ نہیں بلکہ معاشی نظام کا نتیجہ ہے۔ بے گھری تقدیر نہیں بلکہ پالیسی ہے۔ جب جنگ کو حب الوطنی کے نعروں میں لپیٹ دیا جاتا ہے تو طاقت مطمئن ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ غریب اگر آپس میں الجھے رہیں گے تو اصل سوال کبھی نہیں اٹھے گا۔
طاقت کے تصور کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ طاقت یہ نہیں کہ کتنی زمین پر قبضہ ہے، طاقت یہ ہے کہ کتنے پیٹ بھرے جا سکتے ہیں۔ طاقت یہ نہیں کہ کتنے ہتھیار موجود ہیں، طاقت یہ ہے کہ کتنے بچوں کو تعلیم دی جا سکتی ہے۔ طاقت یہ نہیں کہ کتنی آوازیں خاموش کی گئیں، طاقت یہ ہے کہ کتنی آوازوں کو بولنے کا حق دیا گیا۔
وسائل پر حق ان کا ہونا چاہیے جو محنت کرتے ہیں، نہ کہ صرف ان کا جن کے پاس طاقت ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی فلاح کو مقدم رکھے۔ یہ سوچ کسی ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں، کیونکہ بھوک کی کوئی قومیت نہیں ہوتی اور درد کی کوئی سرحد نہیں۔
عظمت کے تصور کو بھی نئے سرے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عظمت وہ نہیں جو تاریخ کی کتابوں میں سنہرے حروف سے لکھی جائے، بلکہ عظمت وہ ہے جو کسی ماں کے چہرے پر اطمینان بن کر ظاہر ہو، کسی مزدور کی تھکن کم کرے اور کسی نوجوان کے خواب ٹوٹنے سے بچا لے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت کا زعم صرف حکمرانوں تک محدود نہیں رہتا۔ یہ سوچ آہستہ آہستہ پورے معاشرے میں سرایت کر جاتی ہے۔ جب کوئی فرد اپنے سے کمزور کو کچلنے کو اپنا حق سمجھنے لگے تو وہ بھی اسی ذہنیت کا حصہ بن جاتا ہے جس پر وہ خود تنقید کرتا ہے۔
اصل تبدیلی تب آتی ہے جب ہم اپنی روزمرہ زندگی میں انصاف، برداشت اور شراکت کو اپناتے ہیں۔ جو معاشرہ اندر سے غیر منصف ہو، وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ طاقت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ کمزور کو سہارا دے، نہ کہ اسے روند ڈالے۔ کیونکہ آخرکار، ہر شخص کو مر جانا ہے، مگر انسانیت کو زندہ رہنا چاہیے۔









