یہ صرف صفائی کا مسئلہ نہیں، ذہنیت کا مسئلہ ہے

یہ صرف صفائی کا مسئلہ نہیں، ذہنیت کا مسئلہ ہے

تحریر:محمد محسن

ہم میں سے بہت سے لوگ بیرون ملک جا کر وہاں کے نظم و ضبط، صفائی اور شہری احساس ذمہ داری کی تعریف کرتے ہیں۔ سڑکیں صاف دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں، پارکوں میں کاغذ کا ٹکڑا نہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی صفائی کی مثالیں اپنے ملک میں دیتے ہیں۔ لیکن اکثر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ان معاشروں کی خوبصورتی صرف حکومتوں کی وجہ سے نہیں، وہاں رہنے والے لوگوں کی عادات کی وجہ سے بھی ہے۔

وہاں اگر کوئی شخص بس سے اترتے وقت اپنی نشست کے پاس پڑا ریپر اٹھا لیتا ہے تو اسے کوئی غیر معمولی کارنامہ انجام دینے والا نہیں سمجھا جاتا۔ وہ صرف اپنا فرض ادا کرتا ہے۔

ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم نے صفائی کو ہمیشہ کسی دوسرے کا کام سمجھا ہے۔

گھر کے اندر صفائی ہو تو ہم اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، مگر گھر کی دہلیز پار کرتے ہی ہماری ذمہ داری جیسے ختم ہوجاتی ہے۔ گھر کا کچرا تھیلے میں بند کرکے گلی، خالی پلاٹ، سڑک کے کنارے یا کسی دوسرے کے دروازے کے سامنے رکھ دینا ہمیں عجیب نہیں لگتا۔ اگر سڑک پر کوئی گندگی نظر آئے تو ہمارا پہلا خیال یہ نہیں ہوتا کہ اسے اٹھایا جا سکتا ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ صفائی کرنے والا کہاں ہے؟

یہ صرف صفائی کا مسئلہ نہیں، ذہنیت کا مسئلہ ہے۔

ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا رہا ہے کہ کچرا اٹھانا کسی دوسرے کا کام ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تعلیم بڑھتی گئی، ڈگریاں ملتی گئیں، عہدے بلند ہوتے گئے، مگر بعض اوقات ایک معمولی ریپر اٹھانے کی تربیت پیدا نہ ہوسکی۔

ہم حکومتوں کو صفائی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، اور یقیناً حکومتوں کی ذمہ داری اپنی جگہ موجود ہے۔ صفائی کا مناسب نظام، کچرا اٹھانے کی سہولت، عوامی مقامات پر کوڑے دان اور مؤثر بلدیاتی انتظام ضروری ہیں۔ لیکن کیا ہر مسئلے کے حل کی ذمہ داری صرف حکومت پر ڈال دینا کافی ہے؟

اگر ہمارے ہاتھ سے کاغذ گرتا ہے تو اسے اٹھانے کے لیے حکومت کا نمائندہ کیوں چاہیے؟

اگر ہم نے سگریٹ کا ٹوٹا پھینکا ہے تو اسے اٹھانے کے لیے میونسپلٹی کا ملازم کیوں آئے؟

اگر ہم اپنے گھر کا کچرا خود سمیٹ سکتے ہیں تو محلے کی اجتماعی صفائی کے لیے چند روپے دینے میں ہمیں تکلیف کیوں ہوتی ہے؟

اصل امتحان یہی ہے۔

بعض علاقوں میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت فلاحی کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ کہیں محلے کی صفائی کا انتظام ہے، کہیں غریب خاندانوں کی مدد کی جاتی ہے، کہیں مریضوں کے علاج کے لیے چندہ جمع ہوتا ہے، کہیں یتیم بچوں کی کفالت ہوتی ہے اور کہیں بچوں کی تعلیم کا بوجھ مل جل کر اٹھایا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خیرات اور صدقہ دینے کا جذبہ کم نہیں، بلکہ بہت مضبوط ہے۔

لیکن ایک عجیب تضاد ضرور ہے۔

ہم ضرورت مند کو رقم دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، مگر اپنے محلے کو بہتر بنانے کی اجتماعی ذمہ داری قبول کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔

کسی گاؤں یا محلے میں صفائی کے لیے معمولی ماہانہ رقم مقرر کردی جائے تو بعض لوگ اسے بھی بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ایسی کئی چیزوں پر رقم خرچ کرتے ہیں جن کے بغیر بھی گزارا ہوسکتا ہے۔ مسئلہ اکثر رقم کا نہیں، ترجیحات کا ہوتا ہے۔

اور پھر کچرا صرف وہ نہیں جو ہاتھ سے زمین پر گرتا ہے۔

یہاں آکر معاملہ کہیں زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔

ہم اپنے پیچھے صرف کاغذ، پلاسٹک اور ریپر نہیں چھوڑتے؛ ہم الفاظ بھی چھوڑ جاتے ہیں۔

کسی محفل سے اٹھتے ہوئے ہم کسی کی عزت مجروح کر جاتے ہیں۔ کسی کے لباس پر تبصرہ، کسی کے لہجے کی نقل، کسی کے گھریلو حالات پر سوال، کسی کی مالی پریشانی کا مذاق، کسی کے رشتے کے بارے میں غیر ضروری گفتگو اور کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائیاں—یہ سب بھی معاشرتی کچرا ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ کاغذ کا کچرا شاید جھاڑو سے اٹھ جائے، مگر زبان سے نکلا ہوا لفظ کبھی کبھی برسوں تک دل میں پڑا رہتا ہے۔

ہم دوسروں کی کمزوریوں کو موضوعِ گفتگو بنانے میں بہت جلدی کرتے ہیں، لیکن جب ہماری اپنی زندگی کا کوئی معاملہ زیر بحث آئے تو ہمیں فوراً اپنی نجی زندگی، عزت اور حدود یاد آجاتی ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر کے مسائل کسی کو معلوم نہ ہوں، مگر دوسروں کے گھریلو معاملات پر پوری مجلس سے رائے لینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

اپنے بچے کی ناکامی کو حالات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور دوسرے کے بچے کی ناکامی کو تربیت کی خرابی کہتے ہیں۔

اپنی بے روزگاری کو مجبوری کہتے ہیں اور دوسرے کی بے روزگاری کو سستی۔

اپنی غلطی کو حادثہ کہتے ہیں اور دوسرے کی غلطی کو کردار کی خرابی۔

اپنے لیے ہم ہمیشہ عذر تلاش کر لیتے ہیں، دوسروں کے لیے فیصلے۔

شاید یہی وہ کچرا ہے جس نے ہمارے معاشرتی ماحول کو زیادہ آلودہ کر رکھا ہے۔

چہرے پر حقارت، لہجے میں تکبر، گفتگو میں طنز، اختلاف میں تذلیل، مذاق میں کسی کی عزت پامال کرنا، کسی کے دکھ کو تفریح بنا دینا، کسی کی مجبوری کو اچھال دینا اور کسی کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف کہانیاں بنانا—یہ سب ایسے فضلات ہیں جو نظر نہیں آتے مگر معاشرے کی فضا کو زہریلا بنا دیتے ہیں۔

ہمیں صفائی کا آغاز سڑک سے پہلے اپنے اندر سے کرنا ہوگا۔

اگلی بار کسی پارک، بس، ٹرین، دفتر یا بازار سے اٹھیں تو صرف اپنی نشست کے آس پاس نہ دیکھیں کہ کوئی ریپر تو نہیں پڑا۔ ایک لمحے کے لیے اپنے الفاظ بھی یاد کریں۔

کیا آپ نے کسی کا دل تو نہیں توڑا؟

کیا آپ نے کسی کی عزت تو مجروح نہیں کی؟

کیا آپ نے کسی کی نجی بات کسی اور کے سامنے تو نہیں بیان کردی؟

کیا آپ نے کسی کی مجبوری کا مذاق تو نہیں اڑایا؟

کیا آپ نے کسی ایسے شخص کے بارے میں گفتگو تو نہیں کی جو اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے وہاں موجود ہی نہیں تھا؟

اگر ایسا ہوا ہے تو اپنا کچرا بھی ساتھ لے جائیے۔

کسی کا دل دکھایا ہے تو معذرت کیجیے۔ کسی کی عزت مجروح کی ہے تو جہاں ممکن ہو، وہیں اپنی غلطی تسلیم کیجیے۔ اور اگر کسی شخص کو چند لوگوں کے سامنے نیچا دکھایا تھا تو صرف تنہائی میں معافی مانگ کر مطمئن نہ ہوجائیے؛ جہاں اس کی تذلیل ہوئی تھی، وہاں اس کی عزت بحال کرنے کی کوشش بھی کیجیے۔

ہم ایک صاف ملک چاہتے ہیں تو ہمیں صرف صاف سڑکیں نہیں، صاف رویے بھی چاہییں۔

جس دن ہم یہ سمجھ جائیں گے کہ صفائی صرف خاکروب کی ذمہ داری نہیں، اور اخلاق صرف کتابوں کا موضوع نہیں، اس دن شاید ہمارے شہر بھی خوبصورت ہونے لگیں گے اور ہماری محفلیں بھی۔

کسی ملک کی اصل خوبصورتی صرف اس کے پہاڑوں، جھیلوں، سڑکوں اور باغوں میں نہیں ہوتی۔

اصل خوبصورتی اس کے لوگوں کے رویوں میں ہوتی ہے۔

اور اگر ہم واقعی اپنے ملک کو جنت نظیر دیکھنا چاہتے ہیں تو آغاز بہت چھوٹا ہوسکتا ہے:

اپنا کچرا اپنے ساتھ رکھیں، چاہے وہ ہاتھ میں ہو یا زبان پر۔

Leave a reply