
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ سائبر جرائم کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دھوکا دہی کے واقعات میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جس سے بڑی تعداد میں افراد مالی نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق اے آئی کی مدد سے ہونے والے سرمایہ کاری فراڈ میں اربوں ڈالر کا نقصان رپورٹ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جعل ساز جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے لوگوں کو جعلی سرمایہ کاری اسکیموں، جعلی شناختوں اور گمراہ کن معلومات کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نے فراڈ کے طریقوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص کے چہرے، آواز اور ویڈیو کی نقل تیار کی جا سکتی ہے، جس سے جعل سازوں کے لیے کسی کی شناخت کا غلط استعمال آسان ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق چند سیکنڈ کی آڈیو ریکارڈنگ کی مدد سے کسی شخص کی آواز جیسی آواز تیار کرنا ممکن ہو چکا ہے، جس کا استعمال جعلی کالز اور دیگر فراڈ سرگرمیوں میں کیا جا رہا ہے۔
سائبر سیکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ماڈلز اور دیگر ڈیجیٹل نظاموں تک غیر مجاز رسائی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں اے آئی سے متعلق فراڈ سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی، مضبوط سیکیورٹی نظام اور جدید قوانین کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔








