پنجاب بجٹ 2026-27 پر قانونی تنازع، اپوزیشن کا عدالت جانے کا اعلان

0
15
پنجاب بجٹ 2026-27 پر قانونی تنازع، اپوزیشن کا عدالت جانے کا اعلان

لاہور: پنجاب حکومت کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر نیا قانونی اور سیاسی تنازع سامنے آگیا ہے۔ اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد بڑے ترقیاتی منصوبے متعلقہ فورمز سے منظوری حاصل کیے بغیر بجٹ کا حصہ بنائے گئے ہیں، جس کے باعث بجٹ کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے رکن رانا آفتاب نے موقف اختیار کیا ہے کہ 10 ارب روپے سے زائد لاگت کے کئی منصوبے ایکنک (ECNEC) کی منظوری کے بغیر بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام قواعد و ضوابط کے منافی ہے، جس پر اپوزیشن عدالت سے رجوع کرے گی۔

دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اس معاملے پر رولنگ دینے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے بجٹ کے قانونی پہلوؤں سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا جائزہ لیا جائے گا۔

منظوری کے انتظار میں اربوں روپے کے منصوبے

بجٹ دستاویزات کے مطابق پنجاب ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (PDWP) کے اجلاس 22 جون سے 29 جون تک مسلسل جاری ہیں، جن میں مجموعی طور پر 118 ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

منصوبوں میں 193 ارب روپے کا “صنعتی ترقی و برآمدی پروگرام (STEP)”، 169 ارب روپے کا نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ لاہور، 160.4 ارب روپے کا وزیراعلیٰ پنجاب لیپ ٹاپ پروگرام اور 100 ارب روپے کا لاہور تا راولپنڈی ہائی اسپیڈ ریل منصوبہ شامل ہیں۔

اسی طرح پوٹھوہار ریجن میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے 100 ارب روپے، مریم نواز اسپورٹس سٹی لاہور کے لیے 50.2 ارب روپے، نارتھ/پوٹھوہار لیزر بیلٹ منصوبے کے لیے 42 ارب روپے اور STEM لیبارٹریز پروگرام کے لیے 33.1 ارب روپے مختص کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔

لاہور ہیریٹیج منصوبہ (31 ارب روپے)، سرگودھا میں جھینگا فارمز منصوبہ (28 ارب روپے)، چلڈرن اسپتال بہاولپور (23.4 ارب روپے) اور ریلیجس ٹریل پنجاب (20 ارب روپے) بھی ان منصوبوں میں شامل ہیں جن کی منظوری کا عمل جاری ہے۔

مزید برآں لاہور ڈویژن میں بس ڈپو اور شیلٹرز، کلثوم نواز کینسر اسپتال ڈی جی خان، فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ، لاہور کنونشن سینٹر، گارمنٹس پلگ اینڈ پلے پارک، نہری نظام کی بحالی اور نئے راوی سیفون جیسے منصوبے بھی بجٹ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

دیگر اہم ترقیاتی منصوبے

بجٹ میں ریجنل ریلوے ٹریکس، کلسٹر انفراسٹرکچر اینڈ اکنامک زون ڈویلپمنٹ، لاہور میں الیکٹرک بسوں کے لیے انفراسٹرکچر، فلم اینڈ میوزک اسکول، ٹرانسپورٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور پنجاب اپلائنس پرفارمنس اینڈ انرجی ایکسیلنس لیب سمیت متعدد منصوبے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ راولپنڈی والڈ سٹی بحالی منصوبہ، جی پی یو بیسڈ کلاؤڈ انفراسٹرکچر، پیرا ٹریننگ اکیڈمی کلر کہار، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی توسیعی منصوبہ، سیکنڈری اسپتالوں کے لیے طبی آلات کی فراہمی، اقلیتی ترقی پروگرام، اسکول میل پروگرام اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) ہیڈکوارٹر لاہور بھی زیر غور منصوبوں میں شامل ہیں۔

حکومتی حکمت عملی

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نئے مالی سال کے آغاز سے قبل ان منصوبوں کی تیز رفتار منظوری کے لیے مسلسل PDWP اجلاس منعقد کر رہی ہے تاکہ ترقیاتی پروگراموں پر بروقت عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔

تاہم اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ جب تک متعلقہ فورمز سے باضابطہ منظوری نہیں ملتی، ان منصوبوں کو بجٹ کا حصہ بنانا قانونی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس معاملے پر آئندہ دنوں میں سیاسی اور قانونی پیش رفت متوقع ہے۔

Leave a reply